data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہر انسان انفرادی شخصیت رکھتا ہے۔ انفرادی حیثیت میں اس کے جسمانی، عقلی اور روحانی تقاضے جن اخلاقی قدروں کی پاسداری سے فطرت کے مطابق پورے ہوتے ہیں انھیں انفرادی اخلاقیات کے زمرے میں رکھنا مناسب ہوگا۔ انفرادی اخلاقی قدریں ہر شخص کو ایک اخلاقی پہچان دیتی ہیں، جیسے شرافت، پاکبازی، نرم دلی، وفاداری، سخاوت، کشادہ دلی، وغیرہ۔ چونکہ انسان فطری طور پر اجتماعیت پسند ہے اس لیے اجتماعی زندگی میں قول، رویے اور عمل کے اعتبار سے جن اخلاقی قدروں کا اثر دوسروں پر پڑتا ہے انھیں ہم اجتماعی اخلاقیات کے زمرے میں رکھتے ہیں۔ اجتماعی زندگی کو ہم آہنگ اور درست رکھنے میں انفرادی اخلاقی قدروں کی پاسداری سے زیادہ اہم اجتماعی اخلاقی قدریں ہوتی ہیں۔ سماجی نظام کی بنیادی اکائی خاندان اور اس کے بعد درجہ بہ درجہ وسیع تر سماجی دائرے ہیں جن میں قریب ترین رشتے دار، پڑوسی، گاؤں، محلہ، انجمن، ادارے، وغیرہ شامل ہیں۔ اجتماعی اخلاقیات کا مقصد سماج میں ایک دوسرے کے درمیان محبت، تعاون اور احسان کو پروان چڑھانا ہے کیونکہ اس کے بغیر سماج کی بقا اور استحکام ممکن نہیں۔ چنانچہ اسلام نے ان اخلاقی خوبیوں پر زور دیا ہے جو ان مقاصد کو پورا کرنے میں مددگار ہوتی ہیں، جیسے رواداری، عفو و درگذر، باہمی تعاون، مشاورت، امانت و دیانت، عدل و قسط، وغیرہ۔ اور ان اخلاقی خرابیوں کی مذمت کی ہے جو سماجی تانے بانے کو درہم برہم کرتی ہیں جیسے غیبت، جھوٹ، حسد، رشوت، قانون شکنی، عہد شکنی، بے حیائی وغیرہ۔
خاندانی دائرے میں رحم کے رشتوں کا خیال، ایک دوسرے کی خبر گیری، احترام و شفقت، نرمی و تلطف اور حقوق کی پاسداری کو بنیادی اخلاقی تقاضا قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سماجی زندگی میں عدل و احسان، دیانتداری، عہد کی پاسداری، مشاورت، اختلاف رائے کا احترام، غیرجانب داری وغیرہ قدروں کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ اجتماعی زندگی میں ان اخلاقی قدروں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ یہ اجتماعی قدریں بلاتفریق مذہب و ملت آفاقی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے برخلاف وہ اخلاقی خرابیاں جو اجتماعی زندگی کو فساد سے دوچار کرتی ہیں انسانی معاشرہ انھیں بلاتفریق آفاقی طور پر قابل مذمت گردانتا ہے۔ اللہ تعالی نے ان خرابیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جیسے بدگمانی، تجسس، غیبت، تعصب، حقوق پر دست درازی، وغیرہ۔ یہ اخلاقی خرابیاں اجتماعی زندگی کو پارہ پارہ کرنے والی ہیں۔ اس لحاظ سے اجتماعی اخلاقیات میں شامل اچھی اور بری دونوں ہی قدروں کے سلسلے میں انسانوں کے درمیان اتفاق پایا جاتا۔ لیکن اسلام ان اخلاقی قدروں کو اثباتی (positivist) نقطہ نظر کے مطابق سماجی اور وقتی ضرورت قرار نہیں دیتا بلکہ انھیں مستقل نظریاتی بنیاد فراہم کرتا ہے اور رضائے الہی اور اخروی جواب دہی کی حقیقت سے مربوط کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اجتماعی اخلاقی اجتماعی زندگی اخلاقی قدروں کی پاسداری ان اخلاقی
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور