Jasarat News:
2026-06-02@22:43:28 GMT

امہات المؤمنین اور تربیتِ معاشرہ

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امہات المومنینؓ نے معاشرے کی اصلاح و تربیت کا فریضہ بخوبی نبھایا۔ رسولؐ کی وفات کے بعد وہ جتنا عرصہ بھی زندہ رہیں، اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے کوشاں رہیں۔ وہ دوسری عورتوں، لڑکیوں، اسی طرح مردوں اور نوجوانوں کو کوئی غلط کام کرتے ہوئے دیکھتیں تو فوراً ٹوک دیتیں۔ کسی معاملے میں کوتاہی محسوس کرتیں تو انھیں توجہ دلاتیں اور مثالی اسلامی زندگی گزارنے کی تلقین کرتیں۔ اس سلسلے میں چند واقعات ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
سیدہ عائشہؓ کے ایک گھر میں کچھ کرایہ دار تھے۔ وہ شطرنج کھیلا کرتے تھے۔ ان کو کہلا بھیجا کہ اگر تم اس حرکت سے باز نہ آؤ گے تو گھر سے نکلوا دوں گی (سیرت عائشہ، سید سلیمان ندوی، بحوالہ الادب المفرد)۔
سیدہ عائشہؓ پردے کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ اسحاق تابعی، جو نابینا تھے، خدمت میں حاضر ہوئے تو ان سے پردہ کیا۔ وہ بولے کہ مجھ سے کیا پردہ؟ میں تو آپ کو دیکھ نہیں رہا ہوں، فرمایا: تم مجھے نہیں دیکھتے، لیکن میں تو تم کو دیکھ سکتی ہوں (سیرت عائشہؓ، بحوالہ ابن سعد)۔

سیدہ عائشہؓ کی خدمت میں ایک بچہ لایا گیا۔ اس کے سر کے نیچے لوہے کا ایک استرہ رکھا ہوا تھا۔ دریافت کیا: یہ کیا؟ لوگوں نے کہا: اسے بھوت بھگانے کے لیے رکھا گیا ہے۔ عائشہؓ نے وہ استرہ اٹھا کر پھینک دیا اور فرمایا: ’’اللہ کے رسولؐ نے شگون سے منع فرمایا ہے۔ ایسا نہ کرو‘‘ (الادب المفرد، باب الطیرۃ من الجن)۔
ایک دفعہ شام کی کچھ عورتیں سیدہ عائشہؓ سے ملنے آئیں۔ شام میں حماموں کا رواج تھا۔ ان میں عورتیں برہنہ غسل کرتی تھیں۔ عائشہؓ نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ’’تم ہی وہ عورتیں ہو جو حماموں میں جاتی ہو۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا ہے: جو عورت اپنے گھر سے باہر اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اللہ کے درمیان پردہ دری کرتی ہے‘‘ (مسند احمد)۔
ایک دفعہ موسم حج میں حضرت عائشہؓ نے ایک عورت کو دیکھا جس کی چادر میں صلیب کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ انھوں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا: ’’اس کو اتار دو۔ اللہ کے رسولؐ ایسے کپڑوں کو دیکھتے تھے تو انھیں پھاڑ ڈالتے تھے‘‘ (مسند احمد)۔

ایک دفعہ ایک عورت ایک لڑکی کے ساتھ سیدہ عائشہؓ کی خدمت آئی۔ وہ جو پازیب پہنی ہوئی تھی اس میں گھنگھرو تھے۔ چلنے پر اس سے آواز پیدا ہوتی تھی۔ عائشہؓ نے فرمایا: ’’گھنگھرو پہنا کر میرے پاس نہ لایا کرو۔ اس کے گھنگرو کاٹ دو‘‘۔ ایک عورت نے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا: ’’اللہ کے رسولؐ نے فرمایا ہے: جس گھر میں یا قافلے میں گھنٹا بجتا ہو وہاں فرشتے نہیں آتے‘‘ (مسند احمد)۔
سیدہ حفصہ بنت عبدالرحمن سیدہ عائشہؓ کی بھتیجی تھیں۔ ایک دن وہ ان کی خدمت میں نہایت باریک دوپٹہ اوڑھ کر آئیں۔ عائشہؓ نے دیکھا تو فوراً خفگی کا اظہار کیا اور اسے اتروا کر پھاڑ ڈالا۔ پھر فرمایا: ’’تمھیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ النور میں پردہ کے متعلق کیا احکام نازل کیے ہیں؟ اس کے بعد انھوں نے گاڑھے کا دوسرا دوپٹہ منگوا کر انھیں اوڑھایا (مؤطا امام مالک)۔
ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرؓ اپنی بہن سیدہ عائشہؓ کے پاس ان سے ملنے آئے۔ نماز کا وقت ہوگیا تو جھٹ پٹ جلدی جلدی وضو کر کے چلے گئے۔ عائشہؓ نے انہیں ٹوکا، اور فرمایا: عبدالرحمن! وضو اچھی طرح کرو۔ اللہ کے رسولؐ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: وضو میں جو اعضا خشک رہ جائیں گے ان پر جہنم کی پھٹکار ہے (مسند احمد)۔

ایک مرتبہ سیدہ عائشہؓ کسی کے گھر تشریف لے گئیں۔ دیکھا کہ صاحب خانہ کی دو لڑکیاں، جو جوانی کی عمر کو پہنچ گئی تھیں۔ بغیر چادر اوڑھے نماز پڑھ رہی ہیں۔ انھوں نے ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ’’آئندہ کوئی لڑکی بغیر چادر اوڑھے نماز نہ پڑھے۔ اللہ کے رسولؐ کا یہی حکم ہے‘‘ (مسند احمد)۔
ایک دفعہ ایک عورت سیدہ عائشہؓکی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے دریافت کیا: میری ایک بیٹی دلہن بنی ہے۔ بیماری کی وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں۔ کیا میں اس کے بالوں میں دوسرے بال جوڑ سکتی ہیں؟ عائشہؓ نے فرمایا: اللہ کے رسولؐ نے بال جوڑنے والیوں اور بال جڑوانے والیوں پر لعنت فرمائی ہے (مسند احمد)۔
ایک شخص سیدہ عائشہؓکی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا: اے ام المومنین! بعض لوگ ایک شب میں دو دو تین تین بار مکمل قرآن پڑھ لیتے ہیں۔ فرمایا: ’’ان کا پڑھنا اور نہ پڑھنا برابر ہے۔ اللہ کے رسولؐ تمام رات نماز میں کھڑے رہتے تھے، لیکن سورہ البقرۃ، سورۂ آل عمران اور سورۂ النساء سے آگے نہیں بڑھتے تھے۔ آپ جب کسی بشارت کی آیت پر پہنچتے تو اللہ سے دعا مانگتے اور جب کسی وعید کی آیت پر پہنچتے تو اللہ سے پناہ مانگتے‘‘ (مسند احمد)۔
ایک مرتبہ موسم حج میں سیدہ عائشہؓ منیٰ میں خیمہ زن تھیں۔ کچھ قریشی نوجوان ہنستے ہوئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انھوں نے ہنسنے کا سبب دریافت کیا۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ایک صاحب خیمے کی ڈوری میں پھنس کر گر پڑے۔ یہ دیکھ کر بے ساختہ ہم لوگوں کو ہنسی آگئی۔ فرمایا: ہنسنا نہیں چاہیے۔ کسی مسلمان کو کانٹا بھی چبھتا ہے یا اس سے بھی معمولی کوئی مصیبت آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بڑھا دیتا ہے اور اس کا گناہ معاف کر دیتا ہے (مسلم)۔

محمد رضی الاسلام ندوی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اللہ کے رسول کی خدمت میں دریافت کیا اور فرمایا نے فرمایا ایک دفعہ ایک عورت انھوں نے

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر