Jasarat News:
2026-07-24@02:10:02 GMT

امہات المؤمنین اور تربیتِ معاشرہ

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امہات المومنینؓ نے معاشرے کی اصلاح و تربیت کا فریضہ بخوبی نبھایا۔ رسولؐ کی وفات کے بعد وہ جتنا عرصہ بھی زندہ رہیں، اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے کوشاں رہیں۔ وہ دوسری عورتوں، لڑکیوں، اسی طرح مردوں اور نوجوانوں کو کوئی غلط کام کرتے ہوئے دیکھتیں تو فوراً ٹوک دیتیں۔ کسی معاملے میں کوتاہی محسوس کرتیں تو انھیں توجہ دلاتیں اور مثالی اسلامی زندگی گزارنے کی تلقین کرتیں۔ اس سلسلے میں چند واقعات ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
سیدہ عائشہؓ کے ایک گھر میں کچھ کرایہ دار تھے۔ وہ شطرنج کھیلا کرتے تھے۔ ان کو کہلا بھیجا کہ اگر تم اس حرکت سے باز نہ آؤ گے تو گھر سے نکلوا دوں گی (سیرت عائشہ، سید سلیمان ندوی، بحوالہ الادب المفرد)۔
سیدہ عائشہؓ پردے کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ اسحاق تابعی، جو نابینا تھے، خدمت میں حاضر ہوئے تو ان سے پردہ کیا۔ وہ بولے کہ مجھ سے کیا پردہ؟ میں تو آپ کو دیکھ نہیں رہا ہوں، فرمایا: تم مجھے نہیں دیکھتے، لیکن میں تو تم کو دیکھ سکتی ہوں (سیرت عائشہؓ، بحوالہ ابن سعد)۔

سیدہ عائشہؓ کی خدمت میں ایک بچہ لایا گیا۔ اس کے سر کے نیچے لوہے کا ایک استرہ رکھا ہوا تھا۔ دریافت کیا: یہ کیا؟ لوگوں نے کہا: اسے بھوت بھگانے کے لیے رکھا گیا ہے۔ عائشہؓ نے وہ استرہ اٹھا کر پھینک دیا اور فرمایا: ’’اللہ کے رسولؐ نے شگون سے منع فرمایا ہے۔ ایسا نہ کرو‘‘ (الادب المفرد، باب الطیرۃ من الجن)۔
ایک دفعہ شام کی کچھ عورتیں سیدہ عائشہؓ سے ملنے آئیں۔ شام میں حماموں کا رواج تھا۔ ان میں عورتیں برہنہ غسل کرتی تھیں۔ عائشہؓ نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ’’تم ہی وہ عورتیں ہو جو حماموں میں جاتی ہو۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا ہے: جو عورت اپنے گھر سے باہر اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اللہ کے درمیان پردہ دری کرتی ہے‘‘ (مسند احمد)۔
ایک دفعہ موسم حج میں حضرت عائشہؓ نے ایک عورت کو دیکھا جس کی چادر میں صلیب کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ انھوں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا: ’’اس کو اتار دو۔ اللہ کے رسولؐ ایسے کپڑوں کو دیکھتے تھے تو انھیں پھاڑ ڈالتے تھے‘‘ (مسند احمد)۔

ایک دفعہ ایک عورت ایک لڑکی کے ساتھ سیدہ عائشہؓ کی خدمت آئی۔ وہ جو پازیب پہنی ہوئی تھی اس میں گھنگھرو تھے۔ چلنے پر اس سے آواز پیدا ہوتی تھی۔ عائشہؓ نے فرمایا: ’’گھنگھرو پہنا کر میرے پاس نہ لایا کرو۔ اس کے گھنگرو کاٹ دو‘‘۔ ایک عورت نے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا: ’’اللہ کے رسولؐ نے فرمایا ہے: جس گھر میں یا قافلے میں گھنٹا بجتا ہو وہاں فرشتے نہیں آتے‘‘ (مسند احمد)۔
سیدہ حفصہ بنت عبدالرحمن سیدہ عائشہؓ کی بھتیجی تھیں۔ ایک دن وہ ان کی خدمت میں نہایت باریک دوپٹہ اوڑھ کر آئیں۔ عائشہؓ نے دیکھا تو فوراً خفگی کا اظہار کیا اور اسے اتروا کر پھاڑ ڈالا۔ پھر فرمایا: ’’تمھیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ النور میں پردہ کے متعلق کیا احکام نازل کیے ہیں؟ اس کے بعد انھوں نے گاڑھے کا دوسرا دوپٹہ منگوا کر انھیں اوڑھایا (مؤطا امام مالک)۔
ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرؓ اپنی بہن سیدہ عائشہؓ کے پاس ان سے ملنے آئے۔ نماز کا وقت ہوگیا تو جھٹ پٹ جلدی جلدی وضو کر کے چلے گئے۔ عائشہؓ نے انہیں ٹوکا، اور فرمایا: عبدالرحمن! وضو اچھی طرح کرو۔ اللہ کے رسولؐ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: وضو میں جو اعضا خشک رہ جائیں گے ان پر جہنم کی پھٹکار ہے (مسند احمد)۔

ایک مرتبہ سیدہ عائشہؓ کسی کے گھر تشریف لے گئیں۔ دیکھا کہ صاحب خانہ کی دو لڑکیاں، جو جوانی کی عمر کو پہنچ گئی تھیں۔ بغیر چادر اوڑھے نماز پڑھ رہی ہیں۔ انھوں نے ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ’’آئندہ کوئی لڑکی بغیر چادر اوڑھے نماز نہ پڑھے۔ اللہ کے رسولؐ کا یہی حکم ہے‘‘ (مسند احمد)۔
ایک دفعہ ایک عورت سیدہ عائشہؓکی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے دریافت کیا: میری ایک بیٹی دلہن بنی ہے۔ بیماری کی وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں۔ کیا میں اس کے بالوں میں دوسرے بال جوڑ سکتی ہیں؟ عائشہؓ نے فرمایا: اللہ کے رسولؐ نے بال جوڑنے والیوں اور بال جڑوانے والیوں پر لعنت فرمائی ہے (مسند احمد)۔
ایک شخص سیدہ عائشہؓکی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا: اے ام المومنین! بعض لوگ ایک شب میں دو دو تین تین بار مکمل قرآن پڑھ لیتے ہیں۔ فرمایا: ’’ان کا پڑھنا اور نہ پڑھنا برابر ہے۔ اللہ کے رسولؐ تمام رات نماز میں کھڑے رہتے تھے، لیکن سورہ البقرۃ، سورۂ آل عمران اور سورۂ النساء سے آگے نہیں بڑھتے تھے۔ آپ جب کسی بشارت کی آیت پر پہنچتے تو اللہ سے دعا مانگتے اور جب کسی وعید کی آیت پر پہنچتے تو اللہ سے پناہ مانگتے‘‘ (مسند احمد)۔
ایک مرتبہ موسم حج میں سیدہ عائشہؓ منیٰ میں خیمہ زن تھیں۔ کچھ قریشی نوجوان ہنستے ہوئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انھوں نے ہنسنے کا سبب دریافت کیا۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ایک صاحب خیمے کی ڈوری میں پھنس کر گر پڑے۔ یہ دیکھ کر بے ساختہ ہم لوگوں کو ہنسی آگئی۔ فرمایا: ہنسنا نہیں چاہیے۔ کسی مسلمان کو کانٹا بھی چبھتا ہے یا اس سے بھی معمولی کوئی مصیبت آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بڑھا دیتا ہے اور اس کا گناہ معاف کر دیتا ہے (مسلم)۔

محمد رضی الاسلام ندوی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اللہ کے رسول کی خدمت میں دریافت کیا اور فرمایا نے فرمایا ایک دفعہ ایک عورت انھوں نے

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت