حیدرآباد صنعتوں کو بلا تعطل گیس کی فراہمی اولین ترجیح ہے،فاروق نظامانی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260206-8-4
حیدرآباد( اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد صنعتوں کو مسلسل، مستحکم اور بلا تعطل گیس کی فراہمی ایس ایس جی سی کی اولین ترجیح ہے۔ یہ بات فاروق نظامانی (جنرل منیجرسوئی سدرن گیس کمپنی)نے حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے دورے کے دوران کہی۔انہوں نے چیمبر کے صدر سلیم میمن کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں مزید کہا کہ ہفتہ اور اتوار کو کچھ لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے، لیکن مکمل بندش نہیں کی جاتی۔ سسٹم کے ذریعے مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے کہ کس علاقے میں کس حد تک یونٹس فعال ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ بعض اوقات میٹر میں موجود کیمیکل ڈیوائس میں گیس کے ساتھ کچھ پارٹیکلز داخل ہو جاتے ہیں، جس سے ڈیوائس سست ہو جاتی ہے اور پریشر میں کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم جہاں حقیقی گیس کے مسائل ہیں، وہاں سروے کے ذریعے مستقل حل فراہم کیا جائے گا۔صنعتوں کے حوالے سے نو بجے کے بعد پریشر ڈراپ ہونے کے مسئلے پر بھی ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ پریشر فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے صنعتی علاقوں میں تقریباً 13–14 ہزار ڈومیسٹک کسٹمرز موجود ہیں، جنہیں متوازن فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ صنعتی شعبے کی ضروریات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔صدر چیمبر کی جانب سے وفاقی وزیر برائے پٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک کو ایک خط بھی لکھا گیا تھا، جس میں حیدرآباد اور سندھ کے دیگر صنعتی علاقوں میں شدید گیس کی قلت، لائن کے نقصانات، لوڈ مینجمنٹ اور قابل اعتماد فراہمی کے فوری حل کی ضرورت پر توجہ دلائی گئی تھی۔ اس خط کی روشنی میں وفاقی وزیر کی ہدایت پر یہ اجلاس منعقد کیا گیا۔اس سے قبل صدر چیمبر سلیم میمن نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ گیس کی بلا تعطل اور مناسب فراہمی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد اور سندھ کے صنعتی علاقوں میں گیس کی فراہمی کا مسئلہ شدید حد تک سنگین ہو چکا ہے۔سکندر علی راجپوت نے اس موقع پر کہا کہ یہ مسائل نہ صرف کاروباری بقا بلکہ قومی معیشت اور روزگار کے لیے بھی سنجیدہ خطرہ ہیں۔ انہوں نے سفارش کی کہ صنعتی علاقوں کے لیے علیحدہ مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے، شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور چیمبر و ایس ایس جی سی کے درمیان باقاعدہ لائزن کمیٹی تشکیل دی جائے۔اس موقع پر پیٹرن ان چیف سیٹھ امین کھتری، احمد ادریس چوہان، شان سہگل اور دیگر ممبران بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صنعتی علاقوں انہوں نے کہا کہ گیس کی
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔