رمضان سے قبل ہی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) رمضان المبارک سے قبل ہی منافع خوروں نے عوام کو کاٹنے کے لیے چھریاں اور دانت تیز کرلیے ہیں،ملک بھر میں اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں یک دم ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔ سبزی، پھلوں اور اجناس کی قیمتوں میں حالیہ چند روز میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تیل، گھی، بیسن، ٹماٹر، آلو، روٹی، انڈے، کیلا، سیب سمیت دیگر اشیا مہنگی ہو گئی ہیں۔اسلام آباد میں 4 دن میں ٹماٹر 40 روپے فی کلو مہنگا ہو گیا ہے اور اب 80 کے بجائے 120 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے جب کہ آلو کی فی کلو قیمت بھی 40 سے بڑھ کر 50 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔بیسن کی فی کلو قیمت 320 سے بڑھ کر 350 روپے کر دی گئی ہے۔ کوکنگ آئل اور گھی بھی 20 روپے کلو مہنگا ہو گیا ہے۔ درجہ اول گھی اور تیل 580 روپے سے بڑھ کر 600 جب کہ درجہ سوم گھی اور تیل کی قیمت 510 سے بڑھ کر 530 روپے کلو ہو گئی ہے۔روٹی اور پراٹھے کی قیمت میں بھی اچانک بڑا اضافہ ہو گیا ہے اور روٹی، نان پانچ روپے اضافے کے بعد 25 روپے کی ہو گئی ہے۔ خمیری نان 25 سے بڑھا کر 30 روپے جب کہ کلچہ 35 روپے کا کر دیا گیا ہے۔تندوری پراٹھا اور روغنی نان کی قیمت 50 سے بڑھا کر 60 روپے کر دی گئی ہے۔ہوٹلوں میں چائے بھی مہنگی ہو گئی ہے اور اب ایک کپ چائے 60 روپے کے بجائے 70 روپے کی فروخت کی جا رہی ہے۔چار روز میں دیسی انڈے بھی 30 روپے درجن مہنگے ہو گئے ہیں اور اب دیسی برائون انڈے 470 سے بڑھا کر 500 روپے درجن میں بیچے جا رہے ہیں۔اسی طرح درجہ سوم سیب 150 سے بڑھ کر 200 روپے کلو اور درجہ سوم کیلا 140 روپے سے بڑھ کر 180 روپے درجن ہو گیا ہے۔عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منافع خوروں کو لگا م دے اور غریبوں کے حال پر رحم کھائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہو گیا ہے ہو گئی ہے سے بڑھ کر کی قیمت فی کلو
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر