غزہ: اسرائیلی حملے جاری، 2 نومولود بچوں سمیت مزید 24 فلطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
غزہ (آئی این پی) ٹرمپ انتظامیہ اور دیگر ثالث ممالک غزہ میں مکمل جنگ بندی کرانے میں ناکام ہو گئے، اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 فلسطینی شہید اور 38زخمی ہو گئے، جن میں دو نومولود بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حملوں میں خواتین، بچوں اور ایک ڈیوٹی پر موجود طبی اہلکار کی بھی جان گئی۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں تین عسکری رہنماں کو ہدف بنایا گیا اور بعض کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب غزہ میں موجود اس کے فوجیوں پر فائرنگ کی گئی، جس میں ایک اسرائیلی ریزرو فوجی شدید زخمی ہوا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حملے فوری ردعمل کے طور پر کیے گئے۔غزہ کے شفا اسپتال کے حکام کے مطابق شمالی غزہ کے طفاح علاقے میں ایک عمارت پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ اُدھر رفح بارڈر کراسنگ پر آمد و رفت محدود رہی، جہاں مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ انسانی امداد میں کچھ اضافہ ہوا ہے، تاہم سیزفائر معاہدے کے کئی اہم نکات، جن میں غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی شامل ہے، تاحال تعطل کا شکار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔