WE News:
2026-07-23@23:48:38 GMT

وینیزویلا میں سیاسی قیدیوں کے لیے معافی بل کی منظوری

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

وینیزویلا میں سیاسی قیدیوں کے لیے معافی بل کی منظوری

وینیزویلا کی قومی اسمبلی نے صدر ڈیلسی روڈریگیز کی طرف سے پیش کردہ امانسی (معافی) بل کی پہلی منظوری دے دی ہے۔ اگر یہ بل حتمی طور پر منظور ہو گیا تو ملک بھر میں سیاست کی بنیاد پر قید ہزاروں افراد، جن میں مخالف رہنما، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں، رہا ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

صدر نے کہا کہ یہ اقدام امن اور قومی مفاہمت کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اسمبلی کے صدر جورج روڈریگیز نے عوام سے معافی مانگی اور کہا کہ ہم معافی مانگتے ہیں اور ہمیں بھی معاف کرنا چاہیے۔

اس بل کے تحت کچھ قیدیوں کے عہدے پر دوبارہ انتخاب کے حق بھی بحال ہو سکتے ہیں، جن میں نوبل انعام یافتہ رہنما ماریا کورینا مچادو شامل ہیں۔

بل ابھی دوسری بحث اور حتمی ووٹنگ سے گزرنا باقی ہے اور منظوری کے بعد صدر کے دستخط کی ضرورت ہوگی۔ تاہم، اس میں ایسے افراد شامل نہیں ہوں گے جو قتل، منشیات کے کاروبار یا سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی جنگی بیڑہ کیرِیبیئن میں داخل؛ وینیزویلا کیخلاف کارروائی کا امکان بڑھ گیا

ماہرین کے مطابق یہ قانون وینیزویلا میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور لوگوں کو اپنے خاندانوں کے پاس واپس لانے کا اہم قدم ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صدر جورج روڈریگیز ماریا کورینا مچادو وینیزویلا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: صدر جورج روڈریگیز ماریا کورینا مچادو وینیزویلا

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم