لاہور:

بسنت فیسٹیول کے آغاز کے ساتھ ہی سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس راؤ عبدالکریم نے لاہور پولیس کو مکمل الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6، 7 اور 8 فروری کے دوران بسنت کو محفوظ، خوشگوار اور قانون کے دائرے میں منانے کے لیے تمام ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

آئی جی پنجاب کے مطابق ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش، بدتہذیبی، فحاشی اور عوامی سکون میں خلل ڈالنے والے تمام عوامل کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ دھاتی، کیمیکل اور دیگر ممنوعہ ڈور کے استعمال پر بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔



لاہور کی فضا میں بہار، ہر چھت پر جشن، بسنت فیسٹیول کا دھوم دار آغاز

آئی جی پنجاب نے کہا کہ ائیرپورٹ، فضائی راستوں، حساس تنصیبات اور ممنوعہ علاقوں میں پتنگ بازی پر عائد پابندی بدستور برقرار رہے گی، جس پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ تین روزہ بسنت فیسٹیول کے دوران حکومتی ضابطہ اخلاق کی مکمل چیکنگ کی جائے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہ کی جائے۔

انسپکٹر جنرل پنجاب نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، قوانین کی پاسداری کریں اور پولیس کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں تاکہ بسنت کا تہوار خوشیوں اور محفوظ ماحول میں منایا جا سکے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل بسنت فیسٹیول

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا