data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قرآن کریم کی تلاوت ایک عظیم الشان اور اہم عبادت ہونے کے ساتھ پُرکیف وپُرلذت عبادت بھی ہے۔ متعدد آیات اور کئی احادیثِ مبارکہ میں مختلف طریقوں سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی ترغیب وتاکید کی گئی ہے، اور تلاوتِ قرآن سے بےاعتنائی اور غفلت برتنے پر وعید سنائی گئی ہے۔ دوسری طرف رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کی اور زیادہ اہمیت وفضیلت ہے؛ کیونکہ قرآن پاک کو رمضان کے ساتھ خصوصی تعلق ہے کہ اس کا نزول اسی ماہِ مبارک میں ہوا، جیسا کہ سورۂ بقرہ (آیت: 185) میں ہے، ترجمہ: ’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا‘‘۔
چنانچہ ہر رمضان میں نبی کریمؐ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن پاک کا دور کرتے تھے، جیسا کہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے، ترجمہ: ’’جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات حضورؐ سے ملا کرتے اور آپ کے ساتھ قرآن پاک کا دور کرتے تھے‘‘۔
لہٰذا قرآن کریم کے رمضان المبارک کے ساتھ اس خصوصی تعلق کی وجہ سے ہمارے اسلاف اور اکابرین کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ رمضان میں تلاوتِ قرآن کثرت سے کرتے تھے، اور عام مہینوں کی بنسبت رمضان میں تلاوت زیادہ کرتے تھے، بلکہ بعض اکابرین کا تلاوتِ قرآن کے سلسلے میں ایسا معمول رہا ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے، اور اسلاف کی قرآن شریف کے ساتھ انتہائی محبت اور شغف کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ذیل میں انہی اسلاف کے رمضان میں تلاوتِ قرآن سے متعلق معمولات اور واقعات ذکر کیے جارہے ہیں۔
کثرتِ تلاوت سے متعلق دو باتوں کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے:
(الف) بعض احادیث میں تین دنوں سے کم میں قرآن پاک ختم کرنے سے ممانعت آئی ہے (صحيح البخاری)۔
لیکن حضرات فقہائے کرام اور ائمہ محدثین نے قرآن پاک کی عمومی آیات اور دیگر احادیث وآثار وغیرہ پر نظر کرتے ہوئے اس بات کی تصریح کی ہے کہ یہ ممانعت مطلقاً عدمِ جواز کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس صورت میں ہے کہ اگر زیادہ تیز تلاوت کرنے سے الفاظ کی ادائی درست طریقے سے نہ ہوتی ہو یا غفلت سے تلاوت کی جائے وغیرہ۔ لیکن اگر تلفظ کی درستی اور تجوید کا لحاظ رکھتے ہوئے، شوق ونشاط کے ساتھ تین دنوں سے کم میں ختمِ قرآن کیا جائے تو یہ ممنوع نہیں ہوگا (البرہان في علوم القرآن للزرکشی)۔ چنانچہ بعض صحابہ کرامؓ بھی تین دنوں سے کم میں ختمِ قرآن کرتے تھے، علامہ نوویؒ فرماتے ہیں:
’’اور جن لوگوں نے ایک رکعت میں ختمِ قرآن کیا ہے، زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں شمار کرنا مشکل ہے۔ ان میں سے سیدنا عثمان بن عفانؓ اور تمیم داریؓ بھی ہیں‘‘ (الأذکار للنووی)۔
(ب) تقویٰ وطہارت اور دیگر وجوہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ہمارے اسلاف کے وقت میں برکت ڈالی تھی، اسی طرح ان کی ہمت اور قوتِ ارادی بھی زیادہ تھی، جس کی وجہ سے وہ تھوڑے سے وقت میں زیادہ کام انجام دیتے تھے، اور مختصر وقت میں زیادہ تلاوت کرتے تھے۔ اور وقت میں برکت پیدا ہونے کا ثبوت بعض احادیث سے بھی ہوتا ہے۔ علامہ ابن حجرؒ رقم طراز ہیں:
’’حدیث میں ہے کہ بسا اوقات تھوڑے سے زمانے میں برکت ہوتی ہے، یہاں تک کہ اس میں زیادہ عمل ہوجاتا ہے‘‘ (فتح الباري لابن حجر)۔
اور علامہ بدر الدین عینیؒ ایک روایت ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
’’اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے زمانہ لپیٹ دیتا ہے‘‘ (عمدۃ القاری للعينی)۔
لہٰذا موجودہ زمانے کے لوگوں پر اسلاف کو قیاس کرکے ان کے تلاوتِ قرآن سے متعلق حیرت انگیر واقعات کا انکار کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رمضان میں تلاوت قرا ن پاک کرتے تھے کے ساتھ میں ہے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ