25 سال بعد لاہور میں بسنت کی واپسی، شہر رنگوں اور پتنگوں سے بھر گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
سٹی42: لاہور میں 25 سال کے طویل انتظار کے بعد بسنت فیسٹیول کا شاندار آغاز ہو گیا ہے، جس کے ساتھ ہی شہر کا روایتی اور ثقافتی ورثہ ایک بار پھر زندہ ہو گیا۔ لاہور کا آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر گیا جبکہ فضا میں “بو کاٹا” کی صدائیں گونجتی رہیں۔ رواں صدی کے سب سے بڑے ثقافتی جشن میں شہریوں کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔
ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کرنیوالے شخص کو عمر قید
بسنت کے آغاز پر شہر بھر میں پتنگ بازوں کا جوش عروج پر نظر آیا۔ گھروں کی چھتیں آباد ہو گئیں، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے پڑے اور گلیوں محلوں میں جشنِ بہاراں کا سماں بندھ گیا۔ نوجوانوں سمیت ہر عمر کے افراد پتنگ بازی اور خوشیوں میں مصروف دکھائی دیے۔
لبرٹی چوک بسنت کے رنگوں میں رنگ گیا جہاں روشنیوں اور رنگ برنگی جھنڈیوں نے ماحول کو مزید دلکش بنا دیا۔ شہر کے بازاروں اور اہم شاہراہوں کو دلہن کی طرح سجایا گیا اور رات کے وقت پورا لاہور روشنیوں سے جگمگاتا رہا۔
دنیا کے 40 فیصد اینڈرائیڈ فونز نئے سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار
رات بھر پتنگ بازی کے بعد شہری مختلف ناشتہ پوائنٹس پر پہنچ گئے۔ ناشتہ کرنے کے بعد نوجوان بڑی تعداد میں موچی گیٹ کا رخ کرتے رہے جہاں پتنگ بازی کے سامان کی خریداری جاری رہی۔ پتنگ اور ڈور مہنگی ہونے کے باوجود شہر بھر میں نایاب ہو چکی ہے، تاہم شوق میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔
بسنت فیسٹیول کے موقع پر شہر بھر میں خصوصی بس سروس چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق بسنت کے دوران پورا شہر خصوصی ٹرانسپورٹ سہولت سے کور کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت فیسٹیول تین روز تک جاری رہے گا اور 8 فروری تک لاہور کو پتنگوں کا شہر قرار دیا گیا ہے۔
خواتین کیلئے بلاسود کاروباری قرضوں کا بڑا اعلان
تاہم بسنت کے آغاز پر بعض علاقوں میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی بھی دیکھنے میں آئی۔ رات بارہ بجتے ہی اندرون شہر ہوائی فائرنگ اور آتشبازی کے واقعات رپورٹ ہوئے جس پر پولیس نے نوٹس لیا۔
آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے لاہور پولیس کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ محفوظ اور خوشگوار بسنت کے لیے ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش، بدتہذیبی اور عوامی سکون میں خلل ڈالنے پر زیرو ٹالیرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت کی ہے جبکہ دھاتی، کیمیکل اور ممنوعہ ڈور کے استعمال پر بلا امتیاز کارروائی کے احکامات دیے گئے ہیں۔ ایئرپورٹ اور حساس تنصیبات کے اطراف پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی۔
مودی سرکار کشمیری قیادت کو پھانسی دے کر آواز دبانا چاہتی ہے:مشعال ملک
لاہور پولیس کے مطابق بسنت فیسٹیول کے دوران شہر بھر میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور دس ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں ناکہ جات قائم کیے گئے ہیں جبکہ ڈولفن، پیرو اور ایلیٹ فورس کی ٹیمیں مسلسل پٹرولنگ کر رہی ہیں۔ سیفٹی راڈ نصب نہ کرنے پر متعدد موٹر سائیکل سواروں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
بسنت منانے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ لاہوریوں کا تہوار ہے اور سب کو مل کر اسے کامیاب بنانا چاہیے۔ شہریوں نے حکومتی ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ وہ بسنت کو محفوظ اور خوشگوار بنانے میں پولیس اور انتظامیہ سے تعاون کریں گے۔
پی سی بی کا ملتان سلطانز کی نیلامی کی تاریخ کا اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 بسنت فیسٹیول پتنگ بازی بسنت کے گیا ہے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔