’ہنی مون مرڈر‘ نئی دلہن نے شوہر کو اپنے سابق بوائے فرینڈ کی مدد سے قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
بھارت علاقے راجستھان کی 3 ماہ پہلے شادی شدہ 23 سالہ انجلی نے اپنے شوہر 27 سالہ اشیش کو قتل کر دیا، جس کے بعد یہ واقعہ ہنی مون مرڈر کے طور پر سامنے آیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، انجلی نے اپنے سابق بوائے فرینڈ سنجو اور اس کے 2 دوستوں کی مدد سے اشیش کو قتل کیا۔ انجلی نے پولیس کو دھوکا دینے کے لیے خود کو بے ہوش ظاہر کیا اور اپنی بالیاں سنجو کو دے دی۔
مزید پڑھیں: نقل یا اتفاق؟ نئے پاکستانی ڈرامہ ‘معصوم’ کے مناظر اور کہانی پر سوالات اٹھنے لگے
انجلی اور اشیش کے خاندان قریبی تعلقات رکھتے تھے اور شادی پر سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا تھا۔ تاہم، انجلی نے شادی کے بعد سنجو سے رابطہ دوبارہ قائم کر لیا، جو شادی کے کیٹرنگ فنکشنز میں ویٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔
اشیش کے والد رام ریکھ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ انجلی کو موت کی سزا دی جائے۔ اس نے اشیش کی زندگی تباہ کر دی اور ہمیں داغدار کر دیا۔ انجلی کے خاندان نے بھی کہا کہ وہ اس قتل سے شدید شرمندہ اور صدمے میں ہیں، اور وہ چاہتے ہیں کہ متعلقہ افراد کو سخت سزا دی جائے۔
مزید پڑھیں: بالوں کے بغیر بھی مکمل، دلہن کی خود اعتمادی نے مثال قائم کردی
پولیس کے مطابق سنجو اور اس کے دوست روہت (راکھی) اور بادل نے قتل میں مدد کی، اور یہ واقعہ جان بوجھ کر روڈ ایکسیڈنٹ کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ واقعہ دونوں خاندانوں اور علاقے میں صدمے اور غصے کا باعث بنا ہوا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انجلی اور اشیش بھارت راجستھان رام ریکھ ہنی مون مرڈر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انجلی اور اشیش بھارت راجستھان رام ریکھ انجلی نے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔