واشنگٹن(نیوز ڈیسک) یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر سفارت خانہ پاکستان، واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے ایک خصوصی ویبینار کا اہتمام کیا گیا، جس میں مسئلہ کشمیر کے مختلف قانونی، تاریخی اور سفارتی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ویبینار میں ممتاز قانون دان احمر بلال صوفی، سینیٹر مشاہد حسین سید، سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے بطور مقرر شرکت کی۔

تقریب کے آغاز میں یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سے صدرِ پاکستان، وزیر اعظم اور ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ ویبینار میں گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے حل طلب مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں، تنازعے پر بین الاقوامی برادری کے ردعمل، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی افادیت اور اطلاق، اور مستقبل میں ممکنہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ممتاز قانون دان احمر بلال صوفی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کردہ قراردادیں آج بھی مسلمہ اور قابلِ اطلاق ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 103 کسی بھی رکن ملک کے ملکی قوانین یا دوطرفہ معاہدات پر فوقیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق غاصب افواج کے خلاف مزاحمت اور بیرونی حمایت حاصل کی جا سکتی ہے۔

سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ عالمی شہرت یافتہ تاریخ دانوں اور محققین کی رائے میں باقاعدہ سازش کے تحت کشمیری عوام کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق سے محروم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حقِ خودارادیت پر مبنی مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اطلاق کے منتظر ہیں۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور دونوں معاملات کے حوالے سے پاکستان کا موقف روزِ اول سے واضح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر کی جانب سے پیس بورڈ کے قیام نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر اس اہم فورم پر اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد عالمی سطح پر اسرائیل کے حوالے سے رائے عامہ میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام اور بھارتی قیادت کے بیانات نے چین کو بھی اس مسئلے کا حصہ بنا دیا ہے، جبکہ موجودہ حالات میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین اور امریکہ کے نقطہ نظر میں مماثلت پاکستان کے لیے سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔

سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عالمی برادری کا ردعمل قدرے مختلف رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ساتھ ساتھ ایک بین الاقوامی سول رائٹس موومنٹ کے طور پر بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعہ کشمیر سے متعلق مقامی اور بین الاقوامی سطح پر آگاہی اور علمی معیار بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر اور فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے متن میں مماثلت قابلِ غور اور قابلِ عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال یومِ یکجہتی کشمیر پاکستانی عوام کی اپنے کشمیری بھائیوں سے دلی وابستگی اور حقِ خودارادیت کے حصول میں اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا مظہر ہے۔ سفیر پاکستان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی اور بھارتی ہٹ دھرمی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں سے التوا کا شکار مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے کردار اور فعالیت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانچ اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدامات اور غزہ کی صورتحال کے بعد مسئلہ کشمیر کے قانونی پہلوؤں کا مزید باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے، جبکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پہلو تہی کی پالیسی علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔

ویبینار کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر مؤثر انداز میں اجاگر کرتا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی قراردادوں ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کی جانب سے اور مسئلہ کشمیر اور نے کہا کہ انہوں نے کیا گیا

پڑھیں:

سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب

سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔

 خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔

 علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

 گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

 بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت