یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر سفارت خانہ پاکستان کی جانب سے خصوصی ویبینار کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر سفارت خانہ پاکستان، واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے ایک خصوصی ویبینار کا اہتمام کیا گیا، جس میں مسئلہ کشمیر کے مختلف قانونی، تاریخی اور سفارتی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ویبینار میں ممتاز قانون دان احمر بلال صوفی، سینیٹر مشاہد حسین سید، سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے بطور مقرر شرکت کی۔
تقریب کے آغاز میں یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سے صدرِ پاکستان، وزیر اعظم اور ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ ویبینار میں گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے حل طلب مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں، تنازعے پر بین الاقوامی برادری کے ردعمل، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی افادیت اور اطلاق، اور مستقبل میں ممکنہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ممتاز قانون دان احمر بلال صوفی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کردہ قراردادیں آج بھی مسلمہ اور قابلِ اطلاق ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 103 کسی بھی رکن ملک کے ملکی قوانین یا دوطرفہ معاہدات پر فوقیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق غاصب افواج کے خلاف مزاحمت اور بیرونی حمایت حاصل کی جا سکتی ہے۔
سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ عالمی شہرت یافتہ تاریخ دانوں اور محققین کی رائے میں باقاعدہ سازش کے تحت کشمیری عوام کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق سے محروم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حقِ خودارادیت پر مبنی مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اطلاق کے منتظر ہیں۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور دونوں معاملات کے حوالے سے پاکستان کا موقف روزِ اول سے واضح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر کی جانب سے پیس بورڈ کے قیام نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر اس اہم فورم پر اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد عالمی سطح پر اسرائیل کے حوالے سے رائے عامہ میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام اور بھارتی قیادت کے بیانات نے چین کو بھی اس مسئلے کا حصہ بنا دیا ہے، جبکہ موجودہ حالات میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین اور امریکہ کے نقطہ نظر میں مماثلت پاکستان کے لیے سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔
سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عالمی برادری کا ردعمل قدرے مختلف رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ساتھ ساتھ ایک بین الاقوامی سول رائٹس موومنٹ کے طور پر بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعہ کشمیر سے متعلق مقامی اور بین الاقوامی سطح پر آگاہی اور علمی معیار بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر اور فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے متن میں مماثلت قابلِ غور اور قابلِ عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال یومِ یکجہتی کشمیر پاکستانی عوام کی اپنے کشمیری بھائیوں سے دلی وابستگی اور حقِ خودارادیت کے حصول میں اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا مظہر ہے۔ سفیر پاکستان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی اور بھارتی ہٹ دھرمی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں سے التوا کا شکار مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے کردار اور فعالیت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پانچ اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدامات اور غزہ کی صورتحال کے بعد مسئلہ کشمیر کے قانونی پہلوؤں کا مزید باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے، جبکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پہلو تہی کی پالیسی علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
ویبینار کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر مؤثر انداز میں اجاگر کرتا رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی قراردادوں ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کی جانب سے اور مسئلہ کشمیر اور نے کہا کہ انہوں نے کیا گیا
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔