لاہور میں 25 سال بعد بسنت، ہر طرف بھنگڑے، بوکاٹا کی صدائیں WhatsAppFacebookTwitter 0 6 February, 2026 سب نیوز

لاہور: (آئی پی ایس) لاہوریوں نے جمعہ کی رات جیسے ہی گھڑی نے بارہ بجائے پتنگیں اُڑانا شروع کر دیں اور پابندی کے 25 سال بعد شبِ بسنت رات بھر منائی، ہر طرف منچلے بھنگڑے ڈالتے رہے اور بوکاٹا کی صدائیں بلند کرتے رہے۔

صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بھاٹی گیٹ میں ایک چھت پر بسنت کا باقاعدہ افتتاح کیا، اس سے پہلے انہوں نے سکیورٹی اور انتظامی معاملات کا بھی جائزہ لیا تھا، انہوں نے شہریوں کو ہر ممکن ایس او پیز پر عملدرآمد کی ہدایت کی تھی۔

جمعہ کی رات سے اتوار کی رات تک، پورے تین دن پتنگ بازی کی اجازت دی گئی ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت پر عائد پابندی ختم کرنے کے فیصلے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ لاہوریوں کی خواہشات کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے کاروبار اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔

دیگر افراد کے مطابق یہ فیصلہ اُن خاندانوں کے زخم تازہ کرے گا جنہوں نے آوارہ ڈور کے باعث اپنے پیارے کھوئے اور مزید قیمتی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

بسنت کا مطلب: پتنگ بازی

بسنت ایک موسمی تہوار ہے جو سردیوں کو الوداع کہنے کے لیے منایا جاتا ہے، یہ فروری میں آتا ہے، جب موسم نہ زیادہ سرد ہوتا ہے نہ گرم بلکہ خوشگوار ہوتا ہے، پنجاب میں بسنت کی تقریبات 25 سال بعد بحال کی گئی ہیں، جو 6 فروری 2026 سے شروع ہو کر 8 فروری تک جاری رہیں گی۔

جوش و خروش بے مثال

عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا، ہر عمر کے افراد تہوار کے رنگ میں رنگے نظر آئے، ہر چھت روشن تھی، موسیقی اور گیتوں کی گونج سنائی دیتی رہی، خوشی میں ڈوبے ہجوم نے شور مچایا، بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ اور آتش بازی بھی کی گئی۔

لوگوں نے رات گئے مزے مزے کے کھانوں کا اہتمام کیا، جن میں خاص طور پر باربی کیو اور سرد موسم کے لیے سبز چائے شامل تھی، لباس اتنے نفیس تھے جیسے عید ہو، گلے ملنا، ’’بو کاٹا‘‘ کے نعرے، رقص، ڈھول، ہارن، ترمپٹ، پتنگیں اور ڈور کی پُنیاں، سب شبِ بسنت کا لازمی حصہ تھے۔

مہمان اور اوورسیز پاکستانی بھی شریک

لاہوری اکیلے نہیں تھے، اندرون و بیرونِ ملک سے آنے والے مہمانوں نے بھی بھرپور لطف اٹھایا، مانچسٹر سے آئے ایک بسنت کے شوقین نے دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا میں اپنے خاندان کے ساتھ مانچسٹر سے آیا ہوں، میں نے آخری بار تقریباً 20 سال پہلے بسنت منائی تھی، پھر یوکے چلا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وہاں مجھے خبر ملی کہ لاہور میں پتنگ بازی کے دوران حادثات کے باعث بسنت پر پابندی لگ گئی ہے، میں مارچ میں پاکستان آنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن جیسے ہی معلوم ہوا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ نے پابندی اٹھا لی ہے میں نے جلد آنے کا فیصلہ کر لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک بسنت کا اصل مزہ پتنگ بازی ہے، میں نے دبئی کے ساحلی علاقوں میں بھی پتنگ اُڑائی ہے، لیکن لاہور کے لوگ پتنگ بازی کا خاص ذوق رکھتے ہیں، افسوس کہ اس بار معیاری ڈور نہیں مل سکی، ڈور بنانے والوں نے خریداروں کو دھوکہ دیا، ایک پِنّا (رول) میں تین ریلیں ہوتی ہیں جن میں ایک اچھی اور باقی خراب نکلتی ہیں۔

نوجوانوں کے لئے نیا تجربہ

بسنت نوجوانوں کے لئے ایک نیا تجربہ ہے، کیونکہ 2001 میں پابندی لگنے کے بعد پیدا ہونے والی نسل نے یہ تہوار پہلے نہیں دیکھا، والدین اپنے بچوں کو بسنت کی رونقوں کے قصے سناتے نظر آئے، ساتھ ہی اس بات پر افسوس بھی کرتے رہے کہ اُن کے دور میں پتنگ اور ڈور کہیں زیادہ سستی ہوتی تھی۔

مہنگائی کے باوجود نوجوان تینوں دن بسنت منانے کے لیے پُرعزم ہیں، کالج کے طالب علم علی نے دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا میں نے آسمان میں پتنگیں تو دیکھی ہیں لیکن بسنت کی اصل رونق نہیں دیکھی، میں نے اپنی بڑی بہن سے اس کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے، چاہے میرے پاس پتنگ خریدنے کے پیسے نہ ہوں میں گِری ہوئی پتنگیں پکڑ کر ہی سہی، پورے تین دن انجوائے کروں گا۔

یونیورسٹی کے طالب علم طارق نے کہا میرے لئے بسنت پتنگ بازی ہی ہے، لیکن مجھے ڈور سے ڈر لگتا ہے، میں اسے ہاتھ نہیں لگاتا، میں آسمان میں اُڑتی پتنگیں، مقابلے اور خاص طور پر ’بو کاٹا‘ کے نعرے سن کر ہی لطف اندوز ہوتا ہوں۔”

لبرٹی چوک بسنت گالا

پنجاب حکومت نے لبرٹی چوک پر شاندار بسنت گالا منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس نے شائقین میں جوش بھر دیا ہے، لاہوری خوشیوں کے مواقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، لبرٹی چوک کی تقریبات ہفتے کے روز، یعنی بسنت کے دوسرے دن ہوں گی۔

ایک نوجوان نے کہا میں اپنے دوست کے ساتھ لبرٹی چوک جاؤں گا، مجھے پتنگ بازی میں اتنی دلچسپی نہیں جتنی میرے بہن بھائیوں کو ہے، لیکن لبرٹی چوک مجھے بہت پسند ہے، اس طرح کی سرگرمیاں میرے لیے بہت بڑا ایونٹ ہیں۔

سوشل میڈیا کے دور کی بسنت 2026ء

یہ بسنت سوشل میڈیا کے دور میں منائی جا رہی ہے، واٹس ایپ، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارمز پر بسنت کا خوب چرچا ہے، 2000ء میں جب آخری بار بسنت منائی گئی تھی، اس وقت اینڈرائیڈ فون موجود نہیں تھے۔

اب لوگ پتنگوں اور ڈور کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں، بسنت کے پروگرامز اور دعوتیں سوشل میڈیا پر دی جا رہی ہیں، حتیٰ کہ پتنگ اور ڈور کے آرڈرز فون پر بک ہو رہے ہیں، بسنت کی رات پتنگ اُڑانے، رقص اور کھانے پینے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جو شائقین میں مزید جوش پیدا کرتی رہیں گی۔

خدشات اور توقعات

اگرچہ بسنت سخت سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کے تحت منائی جا رہی ہے، پھر بھی ناخوشگوار واقعات کا خدشہ موجود ہے، ماضی میں ہوائی فائرنگ اور چھتوں سے گرنے کے واقعات میں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

اگر یہ بسنت پُرامن انداز میں اختتام پذیر ہو گئی تو امکان ہے کہ مستقبل میں اسے دیگر اضلاع تک بھی توسیع دی جائے، کیونکہ وہاں سے بھی اجازت کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔

پتنگ بازی کے ناقدین صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ذرا سی کوتاہی بھی پنجاب حکومت کے خلاف تنقید اور مستقل پابندی کے مطالبے کو ہوا دے سکتی ہے، اصل صورتحال تین روزہ بسنت گالا کے اختتام پر واضح ہو جائے گی، ہم سب کو بہتری کی امید رکھنی چاہئے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملک میں دہشتگردی میں بھارت براہِ راست ملوث ہے، مشعال ملک پاکستان اور ازبکستان کادو طرفہ تجارت کا حجم پانچ سال میں دو ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق، 29معاہدوں اور ایم او یوز پر.

.. کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی مستعفی، جلد نئے سربراہ کی تعیناتی کا امکان ازبک صدر کا گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کا دورہ، دفاعی تعاون بڑھانے کا عزم پاکستان ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کا صدر منتخب، چارج سنبھال لیا امریکا اور روس کے درمیان آخری جوہری معاہدہ ختم، دنیا ایک نئے خطرناک دور میں داخل ہو گئی ازبکستان کے صدر کی پاکستان آمد، پاک فضائیہ کے طیاروں نے ازبک صدر کوشاندار سلامی پیش کی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سال بعد

پڑھیں:

لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر

لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3  سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘

ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔

حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔

شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔

واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش پانی زیر آب لاہور

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا