کور کمانڈر ملتان کی مختلف جامعات کے اساتذہ و طلبہ کیساتھ خصوصی نشست
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
ملتان:
کور کمانڈر ملتان کی غازی یونیورسٹی، ڈی جی خان میڈیکل کالج اور میر چاکر خان رند یونیورسٹی ڈی جی خان کے اساتذہ و طلبہ کیساتھ خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا۔
خصوصی نشست میں وائس چانسلرز، فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر کور کمانڈر ملتان کا کہنا تھا کہ دو قومی نظریہ ہماری قومی وحدت کی بنیاد ہے کیونکہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔
کور کمانڈر نے آپریشن بنیان المرصوص میں اللہ کی مدد اور قوم کی بھرپور حمایت سے حاصل ہونے والی کامیابی کو اجاگر کیا۔
طلبہ اور فیکلٹی ممبران نے آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی پر فخر کا اظہار کیا۔
شرکاء کی جانب سے نوجوانوں کی فکری و قومی رہنمائی میں پاک فوج کے کردار کو سراہا گیا۔ شرکاء نے مستقبل میں بھی اس نوعیت کی آگاہی اور رہنمائی پر مبنی نشستوں کے انعقاد کی خواہش کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کور کمانڈر
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔