پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی صحت، زیرِ التوا مقدمات اور عدالتی کارروائیوں میں تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ علامہ راجہ ناصر عباس نے بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بسنت فیسٹیول پر سوالات اٹھا دیے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریکِ انصاف کی صحت پورے ملک کے لیے کنسرن ہے اور اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ وہ اب تک 16 مرتبہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کر چکے ہیں جبکہ یہ ان کی 10ویں مرتبہ سپریم کورٹ میں حاضری ہے، مگر اس کے باوجود مقدمات مقرر نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ 17 جنوری کو فیصلہ ہو چکا تھا، تاہم تاحال کیس سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے پی ٹی آئی 8 فروری کی ہڑتال کامیاب بنانے کے لیے کیا تیاریاں کر رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ جیل مینوئل رولز کے تحت قیدی کے اہلِ خانہ اور معالج کو اس کی صحت کے بارے میں باقاعدہ آگاہ کرنا لازم ہے، مگر بانی کے علاج کے معاملے پر جھوٹ بولا گیا۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق پہلے کہا گیا کہ علاج نہیں ہوا، بعد ازاں علاج تسلیم کیا گیا مگر اس کے دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ انہوں نے آئینی عدالت کا کوئی بائیکاٹ نہیں کیا تاہم 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر ان کے شدید تحفظات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے ان کے تمام فوجداری مقدمات زیرِ التوا ہیں اور عدالتِ عظمیٰ سے استدعا ہے کہ انصاف دہلیز پر ملنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی تک رسائی کے لیے چیف جسٹس سے استدعا کی گئی ہے اور ملاقات جس ادارے یا شخص کی ذمہ داری ہے، اسے عدالتی حکم پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی کا معاملہ نہایت سنجیدہ ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیے  بی ایل اے کو بھارت کی سرپرستی حاصل، بھرپور کارروائی ہونی چاہیے، بیرسٹر گوہر

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ آج پنجاب اور خیبرپختونخوا کے تمام پارلیمنٹیرینز بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف فراہم کرنا عدالتوں کی ذمہ داری ہے اور ماضی میں سپریم کورٹ میں جب لوگ شکایت کرتے تھے کہ مقدمہ مقرر نہیں ہو رہا تو چیف جسٹس ازخود کیس مقرر کر دیا کرتے تھے، مگر آج ان کے مقدمات مسلسل تاخیر کا شکار ہیں۔

بسنت کا فیسٹیول منانا سمجھ سے بالاتر، علامہ ناصر عباس کی گفتگو

اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں آئے روز افسوسناک واقعات پیش آ رہے ہیں، لوگوں کے گھروں میں میتیں پڑی ہیں اور پورا علاقہ سوگ کی کیفیت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں بسنت کے فیسٹیول منانا سمجھ سے بالاتر ہے اور اس پر سنجیدہ قومی غور و فکر کی ضرورت ہے۔

قبل ازیں پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز یادداشت پیش کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے باہر جمع ہوئے۔ اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ چیف جسٹس نے کہا تھا پمز ہسپتال والے آپ کو میڈیکل رپورٹ دیں گے لیکن وہ ابھی تک نہیں دی گئی،اس لیے اب یہاں پر اب تمام پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز جمع ہیں جو سپریم کورٹ کو یادداشت پیش کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ کے باہر انہوں نے کہا کہ میڈیا سے گفتگو بیرسٹر گوہر نے کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیف جسٹس ہے اور کے لیے کی صحت

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ