بانی کی صحت پورے ملک کے لیے تشویش کا باعث، بیرسٹر گوہر کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی صحت، زیرِ التوا مقدمات اور عدالتی کارروائیوں میں تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ علامہ راجہ ناصر عباس نے بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بسنت فیسٹیول پر سوالات اٹھا دیے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریکِ انصاف کی صحت پورے ملک کے لیے کنسرن ہے اور اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ وہ اب تک 16 مرتبہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کر چکے ہیں جبکہ یہ ان کی 10ویں مرتبہ سپریم کورٹ میں حاضری ہے، مگر اس کے باوجود مقدمات مقرر نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا کہ 17 جنوری کو فیصلہ ہو چکا تھا، تاہم تاحال کیس سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے پی ٹی آئی 8 فروری کی ہڑتال کامیاب بنانے کے لیے کیا تیاریاں کر رہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ جیل مینوئل رولز کے تحت قیدی کے اہلِ خانہ اور معالج کو اس کی صحت کے بارے میں باقاعدہ آگاہ کرنا لازم ہے، مگر بانی کے علاج کے معاملے پر جھوٹ بولا گیا۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق پہلے کہا گیا کہ علاج نہیں ہوا، بعد ازاں علاج تسلیم کیا گیا مگر اس کے دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ انہوں نے آئینی عدالت کا کوئی بائیکاٹ نہیں کیا تاہم 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر ان کے شدید تحفظات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے ان کے تمام فوجداری مقدمات زیرِ التوا ہیں اور عدالتِ عظمیٰ سے استدعا ہے کہ انصاف دہلیز پر ملنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی تک رسائی کے لیے چیف جسٹس سے استدعا کی گئی ہے اور ملاقات جس ادارے یا شخص کی ذمہ داری ہے، اسے عدالتی حکم پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی کا معاملہ نہایت سنجیدہ ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیے بی ایل اے کو بھارت کی سرپرستی حاصل، بھرپور کارروائی ہونی چاہیے، بیرسٹر گوہر
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ آج پنجاب اور خیبرپختونخوا کے تمام پارلیمنٹیرینز بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف فراہم کرنا عدالتوں کی ذمہ داری ہے اور ماضی میں سپریم کورٹ میں جب لوگ شکایت کرتے تھے کہ مقدمہ مقرر نہیں ہو رہا تو چیف جسٹس ازخود کیس مقرر کر دیا کرتے تھے، مگر آج ان کے مقدمات مسلسل تاخیر کا شکار ہیں۔
بسنت کا فیسٹیول منانا سمجھ سے بالاتر، علامہ ناصر عباس کی گفتگواس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں آئے روز افسوسناک واقعات پیش آ رہے ہیں، لوگوں کے گھروں میں میتیں پڑی ہیں اور پورا علاقہ سوگ کی کیفیت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں بسنت کے فیسٹیول منانا سمجھ سے بالاتر ہے اور اس پر سنجیدہ قومی غور و فکر کی ضرورت ہے۔
قبل ازیں پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز یادداشت پیش کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے باہر جمع ہوئے۔ اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ چیف جسٹس نے کہا تھا پمز ہسپتال والے آپ کو میڈیکل رپورٹ دیں گے لیکن وہ ابھی تک نہیں دی گئی،اس لیے اب یہاں پر اب تمام پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز جمع ہیں جو سپریم کورٹ کو یادداشت پیش کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ کے باہر انہوں نے کہا کہ میڈیا سے گفتگو بیرسٹر گوہر نے کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیف جسٹس ہے اور کے لیے کی صحت
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز