عمران خان سے ملاقات کی کسی کو اجازت نہ ملی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260206-1-1
راولپنڈی(مانیڑنگ ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات کے دن کسی بھی پارٹی رہنما کو اجازت نہیں ملی، بانی سے ملاقات کے دو رہنما جیل نہیں آئے، ملاقات کے لیے آنے والے چاروں رہنما واپس روانہ ہوگئے۔بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے سینیٹر روبینہ ناز، ایم پی اے ذوالفقار بھٹی، وقار سندھو اور امجد علی شاہ اڈیالہ روڈ آئے تھے جن کو داہگل ناکے سے آگے جیل کی جانب جانے کی اجازت نہیں ملی، پارٹی کی ملاقات فہرست میں شامل میاں غوث اور ظاہر شاہ ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل نہیں پہنچے۔اس موقع پر سینیٹر روبینہ ناز نے ایم پی اے ذوالفقار بھٹی اور ایم پی اے امجد علی شاہ کے ساتھ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔روبینہ ناز کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود بانی کو غیر قانونی حراست میں 900 دن ہوچکے ہیں، ابھی تک ہمیں بانی سے ملنے نہیں دیا جارہا، بانی کا بطور سابق وزیراعظم حق ہے، لیکن عدالتوں کے احکامات کے باوجود ملاقات نہیں ہورہی، ہم نے کبھی کسی ادارے کے خلاف بات نہیں کی، ہمارا لیڈر کہتا ہے فوج بھی ہماری ہے ملک بھی ہمارا ہے، ہمارا بیانیہ کبھی اسٹیبلشمینٹ کے خلاف نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری بانی کی صحت پر تشویش برقرار ہے، بشری بی بی کی فیملی نے بتایا کہ بانی کو تکلیف ہے پہلے تکلیف ہوئی تو ان کو اسپتال لے جایا گیا، انھوں نے یہ نہیں کہا بانی کو تکلیف نہیں ہے، آپ لوگ کہہ رہے ہیں تکلیف نہیں ہے تو چھوڑیں ہمیں ہم ان کو مل آئیں ہماری تشویش برقرار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملاقات کے
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔