خاموش لائبریری اور اے آئی کا فریب
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: اکثر مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہم پڑھ نہیں سکتے، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم پڑھنے کے ماحول اور جذبے سے کٹ چکے ہوتے ہیں۔ کتابوں کے قریب جانا، انہیں دیکھنا، انکے نام پڑھنا، یہ سب مطالعے کی طرف پہلا قدم ہے اور پہلا قدم سب سے اہم ہوتا ہے۔ اس لیے خود کو زبردستی میز پر بٹھانے کے بجائے، کسی لائبریری یا بک شاپ کا رخ کریں۔ ممکن ہے کوئی کتاب، صرف اپنے نام کے ذریعے، ہمیں دوبارہ اپنا قاری بنا لے اور جب ہم وہ قدم اٹھا لیں، تو جان لیں گے کہ کتابیں صرف صفحات پر چھپے ہوئے الفاظ نہیں بلکہ وہ ہماری سوچ کی حدود توڑ کر ہمیں نئی دنیاؤں میں لے جاتی ہیں۔ تحریر: عارف بلتستانی
arifbaltistani125@gmail.
اکثر دوستوں سے یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ پڑھنے کا دل نہیں کرتا۔ کتاب سامنے ہو تو طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے، نیند آنے لگتی ہے، سر درد جاگ اٹھتا ہے۔ لیکن جب موبائل ہاتھ میں لے کر ریلز، شارٹس یا جنگی خبریں دیکھنے لگتے ہیں تو وقت یوں گزر جاتا ہے جیسے مٹھی سے ریت پھسل جائے۔ دن ختم ہو جاتا ہے، ذہن تھکا ہوا ہوتا ہے، مگر حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ ہم اس مسئلے کا حل عموماً موٹیویشنل ویڈیوز، سخت ٹائم ٹیبلز اور خود پر جبر میں تلاش کرتے ہیں۔ چند دن جوش رہتا ہے، پھر وہی بے دلی، وہی فرار۔ اصل مسئلہ مگر یہ نہیں کہ ہم پڑھ نہیں سکتے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم مطالعے کے ماحول اور اس کی کشش سے کٹ چکے ہیں۔
اس کا ایک بہترین اور حیرت انگیز حل یہ ہے کہ لائبریریوں اور کتابوں کی دکانوں کا رخ کیا جائے۔ نہ کتاب خریدنے کی شرط، نہ گھنٹوں بیٹھ کر پڑھنے کا دباؤ۔ بس شیلفوں کے درمیان چلتے جائیں، کتابوں کے نام پڑھتے جائیں، موضوعات پر نظر ڈالتے جائیں۔ کتابوں کے نام بھی اپنا ایک مزاج رکھتے ہیں۔ کوئی نام چونکا دیتا ہے تو کوئی سوال اٹھا دیتا ہے۔ کوئی خاموشی سے دل میں اتر جاتا ہے تو کسی نام پر ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ ان لمحوں میں انسان کو خود بھی خبر نہیں ہوتی کہ اس کا ذہن دوبارہ سوچنے لگتا ہے، سوال کرنے لگتا ہے، جاننے کی خواہش جاگ اٹھتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں مطالعہ بوجھ نہیں رہتا بلکہ کشش بن جاتا ہے۔
لائبریری یا بک شاپ کا ماحول خود ایک خاموش تربیت ہے۔ وہاں کی خاموشی، کتابوں کی خوشبو، صفحات کی سرسراہٹ اور لوگوں کا سنجیدہ انہماک، یہ سب مل کر ذہن کو آہستہ آہستہ ایک مختلف فریکوئنسی پر لے آتے ہیں۔ یہاں وقت ضائع نہیں ہوتا بلکہ سنورنے لگتا ہے۔ کبھی غور کیا ہوگا کہ لائبریری میں داخل ہو کر محض کتابوں کے نام پڑھنا کیوں دل کو بے اختیار تھام لیتا ہے؟ کوئی عنوان اچانک چونکا دیتا ہے، آنکھوں میں چمک آجاتی ہے، اور سوچ اس کے گرد گھومنے لگتی ہے، جیسے کتاب آپ کو پکار رہی ہو۔ ابھی ایک صفحہ بھی نہیں پڑھا ہوتا، مگر ذہن حرکت میں آچکا ہوتا ہے۔ یہی کتابوں کا اصل سِحر ہے۔ وہ حکم نہیں دیتیں بلکہ شوق پیدا کر دیتی ہیں۔
اس کے برعکس، آج کا "ڈیجیٹل فریب" خصوصاً "سوشل میڈیا اور اے آئی" ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ علم اب فوری، آسان اور بغیر محنت کے دستیاب ہے۔ چند سیکنڈ میں خلاصہ، چند لمحوں میں جواب، چند کلکس میں سب کچھ۔ مگر یہ سہولت دراصل سوچنے کی صلاحیت کو سست اور منحصر بنا دیتی ہے۔ ہمیں جواب تو مل جاتا ہے، مگر سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ذہن بھر جاتا ہے، مگر گہرائی پیدا نہیں ہوتی۔ کتاب سوچنے، فکر کرنے، گہرائی میں اترنے اور ماہی گیری کا ہنر سکھاتی ہے، جبکہ اے آئی ہمیں سیدھا جواب دے دیتا ہے۔
اکثر ہم یہ کہہ کر خود کو تسلی دے لیتے ہیں کہ "ہمارے پاس وقت نہیں" یا "کتابیں مہنگی ہیں۔" مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنی توجہ سستی کر دی ہے۔ کتابیں وقت نہیں مانگتیں، وہ صرف توجہ کا احترام چاہتی ہیں اور یہ احترام خاموش جگہوں پر دوبارہ سیکھا جاتا ہے۔ کتابوں کے درمیان چلنا دراصل خود کے اندر چلنا ہے۔ لائبریری میں ہم صرف علم تلاش نہیں کرتے، ہم خود کو دوبارہ دریافت کر رہے ہوتے ہیں۔ وہاں جانا محض پڑھنے کے لیے نہیں ہوتا، وہاں جانا اپنے ذہن کو زندہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
اکثر مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہم پڑھ نہیں سکتے، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم پڑھنے کے ماحول اور جذبے سے کٹ چکے ہوتے ہیں۔ کتابوں کے قریب جانا، انہیں دیکھنا، ان کے نام پڑھنا، یہ سب مطالعے کی طرف پہلا قدم ہے اور پہلا قدم سب سے اہم ہوتا ہے۔ اس لیے خود کو زبردستی میز پر بٹھانے کے بجائے، کسی لائبریری یا بک شاپ کا رخ کریں۔ ممکن ہے کوئی کتاب، صرف اپنے نام کے ذریعے، ہمیں دوبارہ اپنا قاری بنا لے اور جب ہم وہ قدم اٹھا لیں، تو جان لیں گے کہ کتابیں صرف صفحات پر چھپے ہوئے الفاظ نہیں بلکہ وہ ہماری سوچ کی حدود توڑ کر ہمیں نئی دنیاؤں میں لے جاتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نہیں ہوتا کتابوں کے مسئلہ یہ پہلا قدم ہے کہ ہم جاتا ہے دیتا ہے ہوتا ہے کے نام خود کو
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔