Islam Times:
2026-07-24@03:21:05 GMT

خاموش لائبریری اور اے آئی کا فریب

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

خاموش لائبریری اور اے آئی کا فریب

اسلام ٹائمز: اکثر مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہم پڑھ نہیں سکتے، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم پڑھنے کے ماحول اور جذبے سے کٹ چکے ہوتے ہیں۔ کتابوں کے قریب جانا، انہیں دیکھنا، انکے نام پڑھنا، یہ سب مطالعے کی طرف پہلا قدم ہے اور پہلا قدم سب سے اہم ہوتا ہے۔ اس لیے خود کو زبردستی میز پر بٹھانے کے بجائے، کسی لائبریری یا بک شاپ کا رخ کریں۔ ممکن ہے کوئی کتاب، صرف اپنے نام کے ذریعے، ہمیں دوبارہ اپنا قاری بنا لے اور جب ہم وہ قدم اٹھا لیں، تو جان لیں گے کہ کتابیں صرف صفحات پر چھپے ہوئے الفاظ نہیں بلکہ وہ ہماری سوچ کی حدود توڑ کر ہمیں نئی دنیاؤں میں لے جاتی ہیں۔ تحریر: عارف بلتستانی
arifbaltistani125@gmail.

com

اکثر دوستوں سے یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ پڑھنے کا دل نہیں کرتا۔ کتاب سامنے ہو تو طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے، نیند آنے لگتی ہے، سر درد جاگ اٹھتا ہے۔ لیکن جب موبائل ہاتھ میں لے کر ریلز، شارٹس یا جنگی خبریں دیکھنے لگتے ہیں تو وقت یوں گزر جاتا ہے جیسے مٹھی سے ریت پھسل جائے۔ دن ختم ہو جاتا ہے، ذہن تھکا ہوا ہوتا ہے، مگر حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ ہم اس مسئلے کا حل عموماً موٹیویشنل ویڈیوز، سخت ٹائم ٹیبلز اور خود پر جبر میں تلاش کرتے ہیں۔ چند دن جوش رہتا ہے، پھر وہی بے دلی، وہی فرار۔ اصل مسئلہ مگر یہ نہیں کہ ہم پڑھ نہیں سکتے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم مطالعے کے ماحول اور اس کی کشش سے کٹ چکے ہیں۔

اس کا ایک بہترین اور حیرت انگیز حل یہ ہے کہ لائبریریوں اور کتابوں کی دکانوں کا رخ کیا جائے۔ نہ کتاب خریدنے کی شرط، نہ گھنٹوں بیٹھ کر پڑھنے کا دباؤ۔ بس شیلفوں کے درمیان چلتے جائیں، کتابوں کے نام پڑھتے جائیں، موضوعات پر نظر ڈالتے جائیں۔ کتابوں کے نام بھی اپنا ایک مزاج رکھتے ہیں۔ کوئی نام چونکا دیتا ہے تو کوئی سوال اٹھا دیتا ہے۔ کوئی خاموشی سے دل میں اتر جاتا ہے تو کسی نام پر ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ ان لمحوں میں انسان کو خود بھی خبر نہیں ہوتی کہ اس کا ذہن دوبارہ سوچنے لگتا ہے، سوال کرنے لگتا ہے، جاننے کی خواہش جاگ اٹھتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں مطالعہ بوجھ نہیں رہتا بلکہ کشش بن جاتا ہے۔

لائبریری یا بک شاپ کا ماحول خود ایک خاموش تربیت ہے۔ وہاں کی خاموشی، کتابوں کی خوشبو، صفحات کی سرسراہٹ اور لوگوں کا سنجیدہ انہماک، یہ سب مل کر ذہن کو آہستہ آہستہ ایک مختلف فریکوئنسی پر لے آتے ہیں۔ یہاں وقت ضائع نہیں ہوتا بلکہ سنورنے لگتا ہے۔ کبھی غور کیا ہوگا کہ لائبریری میں داخل ہو کر محض کتابوں کے نام پڑھنا کیوں دل کو بے اختیار تھام لیتا ہے؟ کوئی عنوان اچانک چونکا دیتا ہے، آنکھوں میں چمک آجاتی ہے، اور سوچ اس کے گرد گھومنے لگتی ہے، جیسے کتاب آپ کو پکار رہی ہو۔ ابھی ایک صفحہ بھی نہیں پڑھا ہوتا، مگر ذہن حرکت میں آچکا ہوتا ہے۔ یہی کتابوں کا اصل سِحر ہے۔ وہ حکم نہیں دیتیں بلکہ شوق پیدا کر دیتی ہیں۔

اس کے برعکس، آج کا "ڈیجیٹل فریب" خصوصاً "سوشل میڈیا اور اے آئی" ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ علم اب فوری، آسان اور بغیر محنت کے دستیاب ہے۔ چند سیکنڈ میں خلاصہ، چند لمحوں میں جواب، چند کلکس میں سب کچھ۔ مگر یہ سہولت دراصل سوچنے کی صلاحیت کو سست اور منحصر بنا دیتی ہے۔ ہمیں جواب تو مل جاتا ہے، مگر سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ذہن بھر جاتا ہے، مگر گہرائی پیدا نہیں ہوتی۔ کتاب سوچنے، فکر کرنے، گہرائی میں اترنے اور ماہی گیری کا ہنر سکھاتی ہے، جبکہ اے آئی ہمیں سیدھا جواب دے دیتا ہے۔

اکثر ہم یہ کہہ کر خود کو تسلی دے لیتے ہیں کہ "ہمارے پاس وقت نہیں" یا "کتابیں مہنگی ہیں۔" مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنی توجہ سستی کر دی ہے۔ کتابیں وقت نہیں مانگتیں، وہ صرف توجہ کا احترام چاہتی ہیں اور یہ احترام خاموش جگہوں پر دوبارہ سیکھا جاتا ہے۔ کتابوں کے درمیان چلنا دراصل خود کے اندر چلنا ہے۔ لائبریری میں ہم صرف علم تلاش نہیں کرتے، ہم خود کو دوبارہ دریافت کر رہے ہوتے ہیں۔ وہاں جانا محض پڑھنے کے لیے نہیں ہوتا، وہاں جانا اپنے ذہن کو زندہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔

اکثر مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہم پڑھ نہیں سکتے، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم پڑھنے کے ماحول اور جذبے سے کٹ چکے ہوتے ہیں۔ کتابوں کے قریب جانا، انہیں دیکھنا، ان کے نام پڑھنا، یہ سب مطالعے کی طرف پہلا قدم ہے اور پہلا قدم سب سے اہم ہوتا ہے۔ اس لیے خود کو زبردستی میز پر بٹھانے کے بجائے، کسی لائبریری یا بک شاپ کا رخ کریں۔ ممکن ہے کوئی کتاب، صرف اپنے نام کے ذریعے، ہمیں دوبارہ اپنا قاری بنا لے اور جب ہم وہ قدم اٹھا لیں، تو جان لیں گے کہ کتابیں صرف صفحات پر چھپے ہوئے الفاظ نہیں بلکہ وہ ہماری سوچ کی حدود توڑ کر ہمیں نئی دنیاؤں میں لے جاتی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نہیں ہوتا کتابوں کے مسئلہ یہ پہلا قدم ہے کہ ہم جاتا ہے دیتا ہے ہوتا ہے کے نام خود کو

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف