قازقستان کے صدر کا پاکستان کو اسٹریٹجک شراکت دار قرار
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
قازقستان کے صدر کا پاکستان کو اسٹریٹجک شراکت دار قرار WhatsAppFacebookTwitter 0 6 February, 2026 سب نیوز
قازقستان کے صدر عزت مآب قاسم جومارت توکایف، جنہوں نے حال ہی میں اسلام آباد کا دورہ مکمل کیا، نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کو ایک دوست ملک اور اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے جس نے عالمی برادری میں احترام حاصل کیا ہے۔
ابتدا ہی سے قاسم جومارت توکایف ایک تجربہ کار مدبرِ سیاست دان کی سی متانت اور اس اعتماد کے ساتھ نظر آئے جو ایک جدید ریاست کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر چکا ہو۔ انہیں جدید قازقستان کے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ ’’سننے والی ریاست‘‘ (Listening State) کے تصور کے حوالے سے خاص طور پر جانے جاتے ہیں، جو عوام کی آواز سننے اور ان کے مسائل کو مواقع، اصلاحات اور عملی حل میں ڈھالنے پر مبنی حکمرانی کا فلسفہ ہے۔
وسطی ایشیائی ریاستوں میں قازقستان ایک بااثر اور تزویراتی طور پر اہم ملک کے طور پر نمایاں ہے۔ اس کے صدر ایک نایاب کثیر لسانی شخصیت ہیں، جو چینی، روسی، انگریزی، فرانسیسی اور دیگر کئی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں، جو ان کے طویل سفارتی کیریئر اور عالمی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ گفتگو کے آغاز میں ہی صدر توکایف نے دی نیوز انٹرنیشنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم شہباز شریف سے اپنی حالیہ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی قیادت کی تعریف کی اور بات چیت کے لیے گرمجوشی اور باہمی احترام کا ماحول قائم کیا۔
پاکستان اور قازقستان کے تعلقات، خصوصاً تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کے حوالے سے توقعات، حقائق اور امکانات سے متعلق سوال کے جواب میں صدر توکایف نے کہا کہ قازقستان پاکستان کو ایک دوست ملک اور اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے جس نے عالمی برادری میں احترام حاصل کیا ہے۔ 1992 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے متعدد امور اور منصوبوں پر مل کر کام کیا ہے۔ ہم شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور کانفرنس آن انٹریکشن اینڈ کانفیڈنس بلڈنگ میژرز ان ایشیا (CICA) سمیت اہم بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ قریبی اور مؤثر تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، جو عالمی امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ میں کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ان کا پہلا سرکاری دورہ ہمارے شراکت دارانہ تعلقات کو وسعت دینے اور دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا باب کھولنے کے لیے تھا۔ اس دورے کے دوران حکومتوں اور کاروباری اداروں کے درمیان 60 سے زائد دوطرفہ دستاویزات پر دستخط کیے گئے، جن سے باہمی تعاون کو مضبوط تقویت ملی۔ اقتصادی تعاون کے ترجیحی شعبوں میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، زراعت، صنعت و مینوفیکچرنگ، صحت، تعلیم اور دیگر کئی شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے لیے مشترکہ منصوبے قائم کرنے اور باہمی مفاد کے منصوبوں پر عمل درآمد کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کے مطابق دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعاون کی بنیادی سمت کے بارے میں صدر توکایف نے کہا کہ اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط ہماری شراکت داری کا مرکزی ستون ہیں۔ ہم سیاسی خیرسگالی کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، خاص طور پر تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے ذریعے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ رابطہ سازی (کنیکٹیویٹی) مشترکہ ایجنڈے کا ایک اہم پہلو بن چکی ہے اور قازقستان کے لیے اس کی کیا اہمیت ہے، تو انہوں نے کہا کہ واقعی کنیکٹیویٹی ہمارے مشترکہ ایجنڈے کا ایک سرفہرست مسئلہ بن چکی ہے۔ اس تناظر میں قازقستان، قازقستان–ترکمانستان–افغانستان–پاکستان راہداری کی ترقی میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے، جسے ہم علاقائی روابط اور جنوبی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے تزویراتی طور پر نہایت اہم سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان نے بھی اس اہم منصوبے پر قریبی تعاون کے لیے مثبت رویہ اپنایا ہے۔ ان کے مطابق ہم تمام شراکت داروں کی فعال اور مربوط شرکت کے منتظر ہیں تاکہ ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں پر کامیاب عمل درآمد ممکن ہو سکے۔
امریکا میں ہونے والی حالیہ سیاسی پیش رفت اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی داخلی پالیسیوں کے بارے میں سوال پر صدر توکایف نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایک مضبوط اور مستقبل بین رہنما ہیں جو اپنے ملک کے قومی مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ یہ بات امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی اور بالخصوص سماجی شعبے میں جاری انقلابی اصلاحات سے واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی عام فہم پالیسیوں اور قانون کی بالادستی کی بحالی پر زور کے حامی ہیں۔ اسی طرح قازقستان میں بھی ہم قانون و نظم کی سخت پالیسی پر عمل پیرا ہیں تاکہ موجودہ پیچیدہ عالمی ماحول میں ملک کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق تمام شہریوں کو قانون کی پاسداری کرنی چاہیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احترام کرنا چاہیے۔
ابراہیمی معاہدوں (Abraham Accords) میں شمولیت کے بارے میں سوال کے جواب میں صدر توکایف نے کہا کہ قازقستان ہمیشہ امن، استحکام اور بین الاقوامی مکالمے کے اصولوں پر ثابت قدم رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے شروع کیے گئے ابراہیمی معاہدے ایک دور اندیش اقدام ہیں۔ اس فریم ورک میں شمولیت کے ذریعے ہم سفارت کاری پر اپنے یقین کا اعادہ کرتے ہیں جو اختلافات کے حل اور طویل المدتی علاقائی و عالمی استحکام کے فروغ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ قازقستان کے اسرائیل کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، جبکہ وہ فلسطینی عوام کی مستقل حمایت اور دو ریاستی حل کی وکالت بھی کرتا ہے۔ قومی مفادات کے نقطۂ نظر سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور ٹھوس اقتصادی فوائد کے حصول کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قازقستان کی شمولیت عرب–یہودی قربت کو وسیع تر مسلم–یہودی مکالمے میں تبدیل کرنے میں مدد دے گی۔
داؤس میں وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ بورڈ آف پیس کے قیام کے معاہدے پر دستخط سے متعلق سوال پر، جسے بعض حلقے اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں، صدر توکایف نے کہا کہ بورڈ آف پیس ایک بروقت اور موزوں اقدام ہے جس کا مقصد تیز اور مؤثر نتائج حاصل کرنا ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے خود اس بات پر زور دیا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی کوششوں کا متبادل نہیں بلکہ ان کی تکمیل کے لیے ہے، کیونکہ اس وقت اقوام متحدہ ادارہ جاتی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل درآمد بھی کرتا ہے اور انہیں یقین ہے کہ بورڈ آف پیس تنازعات کے حل کے لیے لچکدار اور عملی طریقہ کار کے ذریعے عالمی امن و استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔
غزہ کے لیے دیرپا اور پائیدار امن منصوبے کے مستقبل سے متعلق سوال پر صدر توکایف نے کہا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی جانب سے پیش کیا گیا منصوبہ منظم، بلند حوصلہ مگر حقیقت پسندانہ نظر آتا ہے اور بعض پہلوؤں میں یہ ترقی پر مبنی منصوبے سے مشابہ ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ دو ریاستی حل کی جانب حقیقی سیاسی عزم کے بغیر کوئی بھی منصوبہ پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہی تشدد اور عدم استحکام کے بار بار آنے والے چکر کو توڑنے کا واحد قابلِ عمل فریم ورک ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے ممکنہ ثالثی کے سوال پر صدر توکایف نے کہا کہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور بنیادی مسئلہ علاقائی نوعیت کا ہے۔ قازقستان ہمیشہ اس تنازع کے سیاسی اور سفارتی حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اگرچہ قازقستان ثالثی کا خواہاں نہیں، تاہم اگر موقع ملا تو ہم مذاکرات کے لیے غیر جانبدار پلیٹ فارم فراہم کرنے سمیت اپنی نیک خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
گرین لینڈ کے حوالے سے ممکنہ فوجی قبضے کے سوال پر صدر توکایف نے کہا کہ وہ اس سوال کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ بین الاقوامی عمل میں ایسے کئی معاملات موجود ہیں جہاں ممالک مخصوص علاقوں یا تزویراتی تنصیبات کے لیے طویل المدتی لیز معاہدے کرتے ہیں، جو باہمی مفاد کے لیے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے کسی بھی فیصلے کو بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحت ہی دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے ایک عملی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ڈنمارک گرین لینڈ کے لیے 120 سالہ لیز معاہدے پر غور کر سکتے ہیں، جس کے تحت گرین لینڈ قانونی طور پر ڈنمارک کا حصہ رہے گا اور اس کی خودمختاری متاثر نہیں ہو گی، جبکہ عملی انتظامات مشترکہ تزویراتی مفادات کو پورا کر سکیں گے۔ ان کے مطابق مکالمے اور ذمہ دار ریاستی طرزِ عمل کے ذریعے فریقین کسی قابلِ قبول اور عملی حل تک پہنچ سکتے ہیں۔
قازقستان میں زیر غور آئینی ترامیم کے بارے میں صدر توکایف نے کہا کہ ملک اپنی تاریخ کے ایک اہم ترین سیاسی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے تاکہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک منصفانہ انداز میں پہنچ سکیں۔ قازقستان نے ایک سپر صدارتی نظام سے نکل کر مضبوط اختیاراتی توازن پر مبنی صدارتی جمہوریہ کی طرف پیش رفت کی ہے، جس میں مضبوط صدر، بااثر پارلیمنٹ اور جواب دہ حکومت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم سیاسی جدید کاری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جس میں یک ایوانی پارلیمنٹ، نیشنل کونسل کا قیام اور نائب صدر کے عہدے کا تعارف شامل ہے۔ انسانی حقوق اور آزادیوں کو ریاست کی اعلیٰ ترین ترجیح قرار دیا گیا ہے، جبکہ قومی اتحاد، بین النسلی ہم آہنگی اور بین المذاہب بقائے باہمی ہماری ریاست کی بنیاد ہیں۔
مستقبل کے لیے قازقستان کے ترقیاتی راستے پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر توکایف نے کہا کہ ہم ایک منصفانہ، محفوظ، صاف اور ترقی پسند قازقستان کی تعمیر چاہتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی اور سماجی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج قازقستان وسطی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، جس کا جی ڈی پی 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور فی کس آمدنی تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سرمایہ کاری پالیسی ایک مستحکم، شفاف اور قابلِ پیش گوئی کاروباری ماحول کے قیام پر مرکوز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم قازقستان کو ایک مکمل ڈیجیٹل ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔ ہم قازقستان کو یوریشیا کا ایک اہم ٹرانزٹ حب بنانے اور توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر جدید کاری کے منصوبوں پر بھی عمل کر رہے ہیں، جن میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ قریبی شراکت داری شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام اقدامات ہمارے منتخب ترقیاتی راستے کی عکاسی کرتے ہیں: ایک متنوع، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عالمی سطح پر مسابقتی معیشت، جس کا مقصد عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کو 10 سال میں 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی: صدرعالمی بینک ازبکستان اور پاکستان: وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان صنعتی اور سرمایہ کاری راہداری کی تشکیل نیو جرسی: گارڈن سٹیٹ – جہاں تاریخ کی سرگوشیاں ہوا میں گونجتی ہیں، تنوع رنگ برنگی پھلیوں کی طرح کھلتا ہے، اور خواب ٹماٹر... نیو یارک: خوابوں کا شہر، جہاں آسمان جھک کر سلام کرتا ہے اور دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں نیویارک: خوابوں کا شہر، جہاں آسمان جھک کر سلام کرتا ہے اور دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں پاکستان کے لیے وسطی ایشیا میں ازبکستان کی سب سے زیادہ اہمیت کیوں ہے؟ واشنگٹن ڈی سی: امریکہ کا سیاسی اور ثقافتی مرکز، جہاں تاریخ کی ہر سانس آزادی کی گواہی دیتی ہے
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسٹریٹجک شراکت دار انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاری قازقستان کے اقوام متحدہ کہ قازقستان ان کے مطابق کے بارے میں بورڈ آف پیس کے حوالے سے پاکستان کو کے درمیان کے ذریعے کرتا ہے کے ساتھ کے فروغ کے لیے اور اس کے صدر ہے اور
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔