دہشت گردی، انتہاء پسندی اور شدت پسندی اسلام، پاکستان اور انسانیت کے بدترین دشمن ہیں، صاحبزادہ حسین رضا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
مرکزی صدر وفاق المدارس الاسلامیہ الرضویہ کا کہنا ہے کہ پیغامِ پاکستان دراصل پوری قوم کا متفقہ بیانیہ ہے جس میں ریاستِ پاکستان، افواجِ پاکستان، علماء کرام اور عوام ایک صف میں کھڑے ہو کر دہشت گردی کے خلاف واضح اور دو ٹوک موقف پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر دینِ اسلام کو تشدد اور نفرت کے فروغ کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ نہ صرف دین کے مجرم ہیں بلکہ ملک و قوم کے دشمن بھی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وفاق المدارس الاسلامیہ الرضویہ پاکستان کے مرکزی صدر صاحبزادہ حسین رضا نے کہا ہے کہ دہشت گردی، انتہاء پسندی اور شدت پسندی اسلام، پاکستان اور انسانیت کے بدترین دشمن ہیں، کوئٹہ میں دہشتگرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں، اسلام ایک دینِ امن ہے جو محبت، رواداری، برداشت اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے، جبکہ شدت پسندی اور تکفیر پر مبنی سوچ اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دارالعلوم جامعہ اویسیہ رضویہ میں منعقدہ پیغامِ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں ممتاز علماء کرام، دینی مدارس کے مہتممین، مذہبی و سماجی قائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت صاحبزادہ علامہ ریاض احمد اویسی نے کی۔
صاحبزادہ حسین رضا نے کہا کہ پیغامِ پاکستان دراصل پوری قوم کا متفقہ بیانیہ ہے جس میں ریاستِ پاکستان، افواجِ پاکستان، علماء کرام اور عوام ایک صف میں کھڑے ہو کر دہشت گردی کے خلاف واضح اور دو ٹوک موقف پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر دینِ اسلام کو تشدد اور نفرت کے فروغ کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ نہ صرف دین کے مجرم ہیں بلکہ ملک و قوم کے دشمن بھی ہیں۔ مرکزی صدر وفاق المدارس الاسلامیہ الرضویہ پاکستان نے مزید کہا کہ مدارسِ اہلِ سنت ہمیشہ سے امن، محبت اور اعتدال کے علمبردار رہے ہیں اور آئندہ بھی شدت پسندی کے خلاف فکری اور نظریاتی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا حل اتحاد، برداشت، باہمی احترام اور آئین و قانون کی بالادستی میں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔