مشی خان کے ہانیہ عامر پر سنگین الزامات، صارفین ڈمپل کوئین کے دفاع میں سامنے آ گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اپنے خیالات کا بے باکی سے اظہار کرنے والی معروف پاکستانی اداکارہ و میزبان مشی خان نے عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ہانیہ عامر پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کر دیے۔
فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر مشی خان نے ویڈیو اور اسٹوریز شیئر کی ہیں، جن میں انہوں نے ساتھی فنکارہ ہانیہ عامر سے متعلق چند سوالات اُٹھا دیے۔
مشی خان ایک سینئر میزبان، اینکر اور سماجی کارکن ہیں، وہ اپنی صاف گوئی کے لیے جانی جاتی ہیں اور جو بات دل میں ہو، بلا جھجھک کہہ دیتی ہیں، اگر انہیں محسوس ہو کہ کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے تو وہ اپنے ہی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد ہوں یا سیاستدان، کسی پر بھی تنقید کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔
مشی خان نے انسٹاگرام پر ہانیہ عامر کی چند تصاویر شیئر کیں جن میں وہ ایک خاص انداز میں ہاتھ کا اشارہ کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
اشاروں کی زبان میں یہ اشارہ مبینہ طور پر ’آئی لو یو‘ (میں تم سے محبت کرتا/کرتی ہوں) کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ہانیہ اس انداز میں پوز دیتی ہیں، تاہم مشی خان کا مؤقف ہے کہ یہ علامت مبینہ طور پر ’ایلومیناٹی‘ نشان ہے اور ہانیہ عامر متعدد بار اسی انداز میں تصاویر بنوا چکی ہیں۔
اس معاملے پر سوشل میڈیا صارفین کا ملا جلا رجحان سامنے آ رہا ہے، بعض صارفین مشی خان کی بات سے اتفاق کر رہے ہیں جبکہ بیشتر صارفین ہانیہ عامر کے حق میں سامنے آئے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا ہے کہ یہ بڑی عمر کی خواتین ہانیہ کے پیچھے کیوں پڑی ہوئی ہیں؟ ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ آپ کو اشاروں کی زبان سیکھنی چاہیے، اس کا مطلب ’آئی لو یو‘ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔