کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کا استعفیٰ منظور
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کا استعفیٰ بورڈ نے منظور کر لیا۔
روزنامہ جنگ کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
نئے سی ای او کا انتخاب 10 فروری کو ہو گا، کے الیکٹرک نے سٹاک ایکسچینج کو اس حوالے سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو سید مونس عبداللّٰہ علوی نے گزشتہ روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق مونس علوی کے الیکٹرک کی سابقہ ملازمہ کی جانب سے ہراسانی کے الزامات کے سبب کئی ماہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور بلآخر انہوں نے کے الیکٹرک کے چیئرمین کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔
سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کا استعفیٰ منظور، ویڈیو بیان بھی آگیا
مونس علوی 2008ء میں کے الیکٹرک سے وابستہ ہوئے تھے، اس دوران وہ چیف فنانشل آفیسر، کمپنی سیکریٹری اور ہیڈ آف ٹریژری بھی رہے۔
2018ء میں انہیں چیف ایگزیکٹیو آفیسر مقرر کر دیا گیا تھا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک کے مونس علوی سی ای او کر دیا
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔