Daily Pakistan:
2026-07-24@01:14:01 GMT

کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کا استعفیٰ منظور

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کا استعفیٰ منظور

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کا استعفیٰ بورڈ نے منظور کر لیا۔

روزنامہ جنگ کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

نئے سی ای او کا انتخاب 10 فروری کو ہو گا، کے الیکٹرک نے سٹاک ایکسچینج کو اس حوالے سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو سید مونس عبداللّٰہ علوی نے گزشتہ روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ 

ذرائع کے مطابق مونس علوی کے الیکٹرک کی سابقہ ملازمہ کی جانب سے ہراسانی کے الزامات کے سبب کئی ماہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور بلآخر انہوں نے کے الیکٹرک کے چیئرمین کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔

سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کا استعفیٰ منظور، ویڈیو بیان بھی آگیا

مونس علوی 2008ء میں کے الیکٹرک سے وابستہ ہوئے تھے، اس دوران وہ چیف فنانشل آفیسر، کمپنی سیکریٹری اور ہیڈ آف ٹریژری بھی رہے۔

2018ء میں انہیں چیف ایگزیکٹیو آفیسر مقرر کر دیا گیا تھا۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کے الیکٹرک کے مونس علوی سی ای او کر دیا

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن