سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کا استعفیٰ منظور، ویڈیو بیان بھی آگیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا اور ان کا ویڈیو بیان بھی سامنے آگیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کا استعفیٰ بورڈ نے منظور کر لیا اور اس حوالے سے کے الیکٹرک کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم نئے سی ای او کا انتخاب 10 فروری کو ہو گا۔
دوسری جانب کے الیکٹرک مستعفی سی ای او مونس علوی کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ادارے کی بہتری ہمیشہ اولین ترجیح رہی ہے، یہ ایک منظم اور سوچا سمجھا فیصلہ ہے تاکہ کمپنی آگے بڑھتی رہے۔
کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کا استعفیٰ منظور
مونس علوی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ کےالیکٹرک کو نئے نظریے اور سوچ کی ضرورت ہے، نئے سی ای او کی تقرری کے بارے فیصلہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کریں گے، یہ مرحلہ جلد مکمل ہو گا اور نئے سی ای او کی تقرری احسن طریقے سے ہو جائےگی۔
مستعفی سی ای او کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئے سی ای او کی آن بورڈنگ اور اختیارات کی ہموار منتقلی کے بعد کےالیکٹرک کو خیر آباد کہوں گا، کےالیکٹرک کی اصل روح اس کے ملازمین میں ہیں اور یہ بدستور برقرار ہے، کےالیکٹرک کی بنیاد بہت مضبوط ہے، اس کو مزید آگے لے جانے کا سفر جاری رہے گا۔
بالی ووڈ اداکار نصیرالدین شاہ کو بغیر وضاحت پیش کیے ایونٹ سے نکال دیا گیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مونس علوی کا استعفی نئے سی ای او
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔