کچے کے ڈاکو مسلسل حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے تھے، آئی جی سندھ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ کچے کے ڈاکو ایک بڑا مسئلہ تھا۔ اغوا برائے تاوان بڑھ گیا تھا۔ ہنی ٹریپ سے لوگوں کو وہاں بلوا کر قید کرلیا جاتا تھا۔
تفصیلات کے مطابق آئی جی نے کہا کہ سستی چیزیں فروخت یا خاتون کی آواز میں بات کر کے بلوایا جاتا تھا۔ کے پی کے ، بلوچستان اور پنجاب سب بھی لوگوں کو بلوا کر اغوا کیا جاتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے اسے استعمال کیا جاتا تھا۔ اغوا سے حاصل ہونے والے رقوم سے اسلحہ خریدتے تھے۔ پہلے صرف اے کے 47 ہوتی تھی لیکن بعد میں جنگی ہتھیار بھی انکے پاس تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم سے بہتر انکے پاس ہتھیار تھے۔ ایسی گولیاں تھی جو ہماری اے پی سی پھاڑ دیتی تھی۔ ان کے ویڈیو بیانات میں انکے حوصلے کا اندازہ ہوتا تھا۔ وہ مسلسل حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے تھے۔ ہماری کوشش تھی کہ ڈاکوؤں کو منہ توڑ جواب دینا ہے۔
جاوید عالم کا مزید کہنا تھا کہ ہماری کوشش تھی کہ یاتو انکا خاتمہ کیا جائے جائے انہیں سرینڈر ہونے پر مجبور کیا جائے۔ حکومت نے بڑا حوصلہ اور ساتھ دیا، ہماری کمر مضبوط ہوگئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس ساتھ مل کر کام کر رہی ہے بلکہ سندھ رینجرز اور پنجاب رینجرز بھی ساتھ کام کررہی ہے۔ پنجاب کا آئی جی بھی سندھ کا ہی رہنے والا ہے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ کوآرڈینیشن پہلے سے بہتر ہو جائے گی۔ اس وقت فوکس کبہ ہے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں اور کہیں پولیسنگ نہیں ہورہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جاتا تھا
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔