کینسر کے 38 فیصد کیسز بچاؤ کے اقدامات سے روکے جا سکتے ہیں، عالمی ادارہ صحت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عالمی ادارۂ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں کینسر کے ہر 10 میں سے تقریباً 4 کیسز ایسے اسباب سے جڑے ہوتے ہیں جن سے بروقت احتیاط اور مؤثر اقدامات کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے۔
ادارے کے مطابق اگر تمباکو نوشی، شراب نوشی، فضائی آلودگی اور بعض انفیکشنز جیسے خطرناک عوامل سے گریز کیا جائے تو کینسر کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق حال ہی میں سائنسی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک جامع تحقیق کے مطابق سال 2022 کے دوران دنیا بھر میں سامنے آنے والے کینسر کے تقریباً 38 فیصد نئے کیسز، یعنی 71 لاکھ سے زائد مریض، ایسے عوامل سے متاثر ہوئے جو قابلِ روک تھام تھے۔
اس تحقیق میں عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے ماہرین نے بھی حصہ لیا۔
مطالعے کے دوران ماہرین نے کینسر کے خطرے میں اضافے کے 30 مختلف عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی بدستور کینسر کی سب سے بڑی وجہ بنی رہی، جو تمام نئے کینسر کیسز کے تقریباً 15 فیصد کا سبب بنی۔ اس کے بعد کینسر پیدا کرنے والے انفیکشنز دوسرے نمبر پر رہے، جن کا تعلق تقریباً 10 فیصد مریضوں سے پایا گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ شراب نوشی بھی ایک بڑا خطرہ ہے، جو تقریباً 3 فیصد کینسر کیسز کی وجہ بنی، جبکہ دیگر عوامل میں موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی، الٹرا وائلٹ شعاعوں کی زیادتی اور کام کے دوران مضر مادّوں کا سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونا شامل ہیں۔
مطالعے کے مرکزی مصنف اور عالمی ادارۂ صحت میں کینسر کنٹرول کے سربراہ آندرے ایل باوی نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی عالمی تحقیق ہے جو واضح طور پر بتاتی ہے کہ کینسر کے خطرے کا ایک بڑا حصہ ایسے اسباب سے منسلک ہے جن پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق قابلِ روک تھام کیسز میں سے تقریباً نصف پھیپھڑوں، معدے اور سروائیکل کینسر کے تھے۔ پھیپھڑوں کے کینسر کا تعلق زیادہ تر تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی سے، معدے کے کینسر کا تعلق ہیلیکوبیکٹر پائلوری بیکٹیریا سے، جبکہ سروائیکل کینسر کا تعلق انسانی پیپیلوما وائرس سے پایا گیا، جس کے خلاف ویکسین مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مردوں میں قابلِ روک تھام کینسر کے کیسز خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھے، جہاں مردوں میں یہ شرح 45 فیصد جبکہ خواتین میں 30 فیصد رہی۔
عالمی ادارۂ صحت نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ تمباکو اور شراب پر سخت کنٹرول، ویکسینیشن، صاف ماحول اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عالمی ادارۂ صحت کینسر کے کے مطابق کا تعلق
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔