نیپا وائرس سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ، ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) متعدی امراض کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ مشرقی بھارت اور بنگلا دیش میں نیپاہ وائرس (NiV) کے کیسز سے پاکستان کو فی الحال کوئی براہِ راست خطرہ نہیں ہے۔ میڈیا راؤنڈ ٹیبل کے دوران اے کے یو ایچ (AKUH) کے ماہرین نے بتایا کہ 2026 میں عالمی سطح پر صرف 10 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے محض دو انسان سے انسان میں منتقلی کے تھے، جو کہ ایک نہایت نایاب عمل ہے۔پروفیسر ڈاکٹر فیصل محمود کا کہنا تھا کہ نیپاہ ایک سنجیدہ انفیکشن ضرور ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے، اس وقت ہماری توجہ ملک میں خسرہ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر نوشین ناصر نے وضاحت کی کہ یہ وائرس متاثرہ چمگادڑوں سے براہِ راست رابطے یا آلودہ خوراک (کچے رس یا پھل) سے پھیلتا ہے، محض چمگادڑوں کے آس پاس ہونے سے منتقل نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جغرافیائی طور پر یہ وائرس مغربی بنگال اور کیرالہ تک محدود ہے اور پاکستان سے متصل بھارتی سرحدوں پر کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ ماہرین نے حکومت کی جانب سے مسافروں کی اسکریننگ کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے مستقبل کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مضبوط صحتی نظام اور عوامی آگاہی پر زور دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔