data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ماہرینِ صحت نے ایک نئی سائنسی تحقیق میں روزانہ استعمال ہونے والی ایک عام ڈیری غذا کو آنتوں کے کینسر سے بچاؤ میں مؤثر قرار دیا ہے۔

تحقیق کے مطابق ناشتے میں دہی کو معمول کا حصہ بنانے سے آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کا توازن بہتر ہوتا ہے، جو بڑی آنت کے کینسر کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں کم عمر افراد، خصوصاً نوجوانوں میں آنتوں کے کینسر کے کیسز تشویشناک رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق سن 2010 کے بعد سے لے کر 2030 تک اس بیماری کی تشخیص کی شرح تقریباً دوگنی ہو سکتی ہے، جس نے طبی حلقوں میں سنجیدہ خدشات کو جنم دیا ہے۔

بیماری میں اس غیر معمولی اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے دنیا بھر میں سائنسی سطح پر تحقیق جاری ہے۔ ماہرین کا ایک اہم نظریہ یہ ہے کہ آنتوں کی اندرونی سطح پر نقصان دہ بیکٹیریا کا طویل عرصے تک موجود رہنا سوزش پیدا کرتا ہے، جو خلیات کو نقصان پہنچا کر کینسر کی افزائش کو متحرک کر سکتا ہے۔

اسی تناظر میں ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے اپنی تحقیق کے دوران یہ دریافت کیا کہ وہ افراد جو ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ دہی کا استعمال کرتے ہیں، ان میں بیکٹیریا سے جڑے بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ تقریباً 20 فیصد تک کم پایا گیا۔ محققین کے مطابق دہی میں موجود مفید بیکٹیریا آنتوں کے قدرتی نظام کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

تحقیق کے دوران خاص طور پر ان ٹیومرز کا مطالعہ کیا گیا جو بفیڈوبیکٹیریم نامی بیکٹیریا سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا عام حالات میں فائبر کے ہاضمے اور جسم کو انفیکشن سے بچانے میں معاون سمجھا جاتا ہے، تاہم اگر اس کی مقدار غیر متوازن حد تک بڑھ جائے تو یہ بڑی آنت میں سوزش پیدا کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل سوزش خلیات کو نقصان پہنچاتی ہے اور بعض صورتوں میں انہیں بے قابو انداز میں بڑھنے پر مجبور کر دیتی ہے، جو بالآخر کینسر کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ دہی کے باقاعدہ استعمال سے آنتوں میں بیکٹیریا کا یہ توازن برقرار رہتا ہے، جس کے نتیجے میں سوزش کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

طبی ماہرین نے اس تحقیق کو صحتِ عامہ کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ متوازن غذا، فائبر سے بھرپور خوراک اور دہی جیسے پروبایوٹک غذاؤں کا استعمال آنتوں کی صحت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے اور مستقبل میں کینسر جیسے مہلک مرض سے بچاؤ کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے کینسر آنتوں کے سکتا ہے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ