ہفتے میں دو بار دہی کا استعمال آنتوں کے کینسر کے خطرے میں 20 فیصد تک کمی لا سکتا ہے: تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ماہرینِ صحت نے ایک نئی سائنسی تحقیق میں روزانہ استعمال ہونے والی ایک عام ڈیری غذا کو آنتوں کے کینسر سے بچاؤ میں مؤثر قرار دیا ہے۔
تحقیق کے مطابق ناشتے میں دہی کو معمول کا حصہ بنانے سے آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کا توازن بہتر ہوتا ہے، جو بڑی آنت کے کینسر کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں کم عمر افراد، خصوصاً نوجوانوں میں آنتوں کے کینسر کے کیسز تشویشناک رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق سن 2010 کے بعد سے لے کر 2030 تک اس بیماری کی تشخیص کی شرح تقریباً دوگنی ہو سکتی ہے، جس نے طبی حلقوں میں سنجیدہ خدشات کو جنم دیا ہے۔
بیماری میں اس غیر معمولی اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے دنیا بھر میں سائنسی سطح پر تحقیق جاری ہے۔ ماہرین کا ایک اہم نظریہ یہ ہے کہ آنتوں کی اندرونی سطح پر نقصان دہ بیکٹیریا کا طویل عرصے تک موجود رہنا سوزش پیدا کرتا ہے، جو خلیات کو نقصان پہنچا کر کینسر کی افزائش کو متحرک کر سکتا ہے۔
اسی تناظر میں ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے اپنی تحقیق کے دوران یہ دریافت کیا کہ وہ افراد جو ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ دہی کا استعمال کرتے ہیں، ان میں بیکٹیریا سے جڑے بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ تقریباً 20 فیصد تک کم پایا گیا۔ محققین کے مطابق دہی میں موجود مفید بیکٹیریا آنتوں کے قدرتی نظام کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیق کے دوران خاص طور پر ان ٹیومرز کا مطالعہ کیا گیا جو بفیڈوبیکٹیریم نامی بیکٹیریا سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا عام حالات میں فائبر کے ہاضمے اور جسم کو انفیکشن سے بچانے میں معاون سمجھا جاتا ہے، تاہم اگر اس کی مقدار غیر متوازن حد تک بڑھ جائے تو یہ بڑی آنت میں سوزش پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل سوزش خلیات کو نقصان پہنچاتی ہے اور بعض صورتوں میں انہیں بے قابو انداز میں بڑھنے پر مجبور کر دیتی ہے، جو بالآخر کینسر کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ دہی کے باقاعدہ استعمال سے آنتوں میں بیکٹیریا کا یہ توازن برقرار رہتا ہے، جس کے نتیجے میں سوزش کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
طبی ماہرین نے اس تحقیق کو صحتِ عامہ کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ متوازن غذا، فائبر سے بھرپور خوراک اور دہی جیسے پروبایوٹک غذاؤں کا استعمال آنتوں کی صحت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے اور مستقبل میں کینسر جیسے مہلک مرض سے بچاؤ کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے کینسر آنتوں کے سکتا ہے
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔