ٹرمپ کے صدقے امریکی زوال میں تیزی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: امریکہ کا ایک اور اتحادی ملک سعودی عرب ہے جسے امریکہ میں ڈیڑھ کھرب ڈالر سرمایہ کاری پر مجبور کیا گیا ہے۔ وہ بھی ایسے حالات میں جب گزشتہ برس سعودی عرب کا بجٹ 60 ارب ڈالر کے خسارے سے روبرو تھا۔ وہ ملک جو اپنا بجٹ پورا نہیں کر سکتا اپنے محدود ذرائع کی امریکہ میں سرمایہ کاری پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ٹرمپ کے صدر بن جانے کے بعد امریکہ کا اپنے دوست ممالک سے رویہ بھی بہت شدید ہو گیا ہے۔ یورپ چونکہ انرجی اور فوجی شعبوں میں امریکہ پر انحصار کرتا ہے لہذا اس کی اطاعت پر مجبور ہے۔ کینیڈا کسی زمانے میں امریکہ کا آنگن تصور کیا جاتا تھا لیکن آج اس کا جھکاو چین کی جانب بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ مندرجہ بالا تمام تبدیلیاں اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر امریکہ کا مقام روز بروز گرتا چلا جا رہا ہے اور اس گراوٹ کی تیزی میں ٹرمپ کا اہم کردار ہے۔ تحریر: فواد ایزدی (پروفیسر سیاسیات تہران یونیورسٹی)
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوسری بار امریکہ کا منصب صدارت سنبھالے تقریباً ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ امریکہ میں انجام پانے والی مختلف سروے رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 58 سے 60 فیصد امریکی عوام اس عرصے میں ٹرمپ کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔ واضح ہے کہ جنہوں نے اسے ووٹ نہیں دیا وہ تو اس پر تنقید کریں گے ہی سہی لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ حتی ٹرمپ کے حامیوں اور ووٹرز کی بڑی تعداد بھی اس وقت اس پر برہم ہیں کیونکہ الیکشن مہم کے دوران ٹرمپ نے ان سے جو وعدے کیے تھے وہ انہیں اب تک انہیں پورا نہیں کر سکا۔ خارجہ پالیسی کے میدان میں ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کوئی نئی جنگ شروع نہیں کرے گا لیکن ایران پر فوجی حملہ، وینزویلا کے صدر کا اغوا اور گرین لینڈ سے متعلق اس کے عجیب دعوے اور اسے ڈنمارک سے علیحدہ کرنے کی کوششیں کوئی اور ہی تصویر پیش کر رہی ہیں۔
ٹرمپ کو ووٹ دینے والوں کی اکثریت نے اس امید پر اسے ووٹ دیا تھا کہ وہ گذشتہ امریکی حکومتوں کی خارجہ پالیسیوں کی اصلاح کرے گا اور خود ٹرمپ نے بھی الیکشن مہم کے دوران یہی نعرہ لگایا تھا لیکن جو وہ الیکشن میں کامیاب ہو کر صدارت کے عہدے پر فائز ہو گیا تو اس کا رویہ بالکل بدل گیا اور گویا وہ الیکشن سے پہلے والا ٹرمپ ہے ہی نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی دعوی ہے کہ اس نے سات یا آٹھ جنگیں بند کروائی ہیں جبکہ اکثریت کی نظر میں اس کا یہ دعوی سرے سے ہی جھوٹا ہے۔ مثال کے طور پر ٹرمپ ان جنگوں میں سے ایک ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ گنواتا ہے اور دعوی کرتا ہے کہ یہ جنگ بھی اس نے بند کروائی تھی۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ کچھ مواقع پر وہ خود کو ایران پر اسرائیل کی فوجی جارحیت کا چیف کمانڈر متعارف کرواتا ہے اور دعوی کرتا ہے کہ یہ جنگ اس کی زیر کمان انجام پائی تھی۔
یہ ایک واضح تضاد ہے جو ٹرمپ کے دعووں اور بیانات میں کثرت سے دکھائی دیتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی حقیقت یہ ہے کہ جب ایران نے اسرائیل پر کاری ضرب لگائی اور اپنے تابڑ توڑ میزائیل حملوں سے اسے شدید نقصان پہنچایا تو اسرائیلی حکمرانوں نے فوراً جنگ بندی کی بھیک مانگنا شروع کر دی۔ یہ امریکہ یا اسرائیل کی امن پسندی کی علامت نہیں بلکہ ان کی ذلت آمیز شکست کی علامت ہے۔ ٹرمپ نے دیگر جن جنگوں کو رکوانے کا دعوی کیا ہے ان میں افریقہ یا ایشیا میں رونما ہونے والی جنگیں تھیں جو فطری طور پر اپنے انجام کو پہنچیں اور کسی ثالث طاقت کا اس جنگ کے اختتام میں کوئی کردار نہیں تھا۔ امریکہ کی داخلہ سیاست کے میدان میں بھی ٹرمپ کو گزشتہ ایک سال کے دوران کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
امریکہ میں مہنگائی، افراط زر اور اقتصادی مسائل بدستور بڑھتے چلے جا رہے ہیں جبکہ الیکشن مہم کے دوران ٹرمپ نے ان پر قابو پانے کا وعدہ کیا تھا۔ مہاجرین کے مسئلے میں بھی ٹرمپ نے انتہائی درجہ شدت پسندانہ اور انسان مخالف پالیسیاں اپنا رکھی ہیں۔ مثال کے طور پر اب تک ایسے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں امریکہ کی فیڈرل پولیس، جو وزارت انصاف کے تحت ہے اور وہ مقامی پولیس فورس نہیں ہے، نے گولی مار کر نہتے شہریوں کو قتل کیا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ کچھ ہفتے پہلے پیش آیا جس میں ایک خاتون اور اس کا 7 سالہ بچہ فیڈرل پولیس کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے نے ملک بھر میں شدید عوامی احتجاج کو جنم دیا۔ مہاجرین کے مسئلے میں ٹرمپ انتظامیہ کی اس شدت پسندی نے ٹرمپ کی محبوبیت کو شدید دھچکہ پہنچایا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے طرز عمل اور اقدامات کی بدولت امریکہ کے زوال میں مزید تیزی پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ امریکہ اس سے پہلے بھی زوال کی جانب گامزن تھا لیکن ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ زوال مزید تیز ہو گیا ہے۔ ٹرمپ سے پہلے امریکہ ایسے ممالک کا خون چوستا تھا اور ان کی لوٹ مار کرتا تھا جو اس کے اتحادی نہیں ہوتے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے حتی اپنے اتحادی ممالک سے بھی یہی رویہ اختیار کیا ہے اور طاقت کے زور پر ان کی لوٹ مار میں مصروف ہے۔ ڈنمارک حتی نیٹو فوجی اتحاد کا رکن ملک ہے لیکن ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی حکومت اس پر دباو ڈال رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا ایک حصہ اس کے سپرد کر دے۔ اسی طرح جنوبی کوریا کو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ ٹھیک اس جگہ سرمایہ کاری کرے جہاں ٹرمپ حکم دیتا ہے اور اخراجات سے بچ جانے والا سود بھی امریکہ کے حوالے کر دے۔
جاپان بھی ایسی ہی صورتحال سے روبرو ہے۔ امریکہ کا ایک اور اتحادی ملک سعودی عرب ہے جسے امریکہ میں ڈیڑھ کھرب ڈالر سرمایہ کاری پر مجبور کیا گیا ہے۔ وہ بھی ایسے حالات میں جب گزشتہ برس سعودی عرب کا بجٹ 60 ارب ڈالر کے خسارے سے روبرو تھا۔ وہ ملک جو اپنا بجٹ پورا نہیں کر سکتا اپنے محدود ذرائع کی امریکہ میں سرمایہ کاری پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ٹرمپ کے صدر بن جانے کے بعد امریکہ کا اپنے دوست ممالک سے رویہ بھی بہت شدید ہو گیا ہے۔ یورپ چونکہ انرجی اور فوجی شعبوں میں امریکہ پر انحصار کرتا ہے لہذا اس کی اطاعت پر مجبور ہے۔ کینیڈا کسی زمانے میں امریکہ کا آنگن تصور کیا جاتا تھا لیکن آج اس کا جھکاو چین کی جانب بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ مندرجہ بالا تمام تبدیلیاں اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر امریکہ کا مقام روز بروز گرتا چلا جا رہا ہے اور اس گراوٹ کی تیزی میں ٹرمپ کا اہم کردار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری پر مجبور کیا چلا جا رہا ہے امریکہ میں میں امریکہ امریکہ کا تھا لیکن کے دوران کیا جاتا یہ ہے کہ نہیں کر ٹرمپ کی ٹرمپ کے کرتا ہے کی جانب اور اس ہو گیا ہے اور گیا ہے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔