مظفر آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے ببانگ دہل کہا ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان وہ بھارت کا حصہ کبھی تھا اور نہ ہے۔یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ببانگ دہل کہا ہے کہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا اور نہ اب ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور یہی ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کو دی گئی شکست ان کی نسلیں بھی نہیں بھولیں گی۔ معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر پوری دنیا میں اجاگر ہوا۔وزیراعظم نے کہا کہ عسکری محاذ کے ساتھ خارجہ محاذ پر بھی پاکستان نے زبردست کامیابیاں حاصل کیں اور دونوں میدانوں محاذوں پر بھارتی جھوٹ کا بیانیہ دفن ہو گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت اپنی پراکسی کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے۔ اس کے جارحانہ، توسیع اور تسلط پسندانہ عزائم ترک کرنے تک خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن یہ امن برابری کی سطح پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔ بھارت جس زبان میں بات کرے گا، اسی زبان میں جواب دیں گے۔ ہماری بہادر افواج بھارتی کٹھ پتلیوں کا وہی حشر کرینگے، جو معرکہ حق میں بھارتی طیاروں کا ہوا۔شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل کشمیریوں کی امنگوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان نےاہم اسلامی ممالک کیساتھ مل کر غزہ میں قیام امن کیلئے عملی اقدامات کیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جدوجہد آزادی کشمیر کے ہر قائد اور شہری کو سلام پیش کرتے ہیں۔ کشمیری اپنی آزادی قربان کرنے کیلیے تیار نہیں اور وہ دنیا کو سچائی کا آئینہ دکھا رہے ہیں۔ وہ اپنے بچے تک قربان کر سکتے ہیں، مگر حق آزادی سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر کے لیے کئی ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کا اعلان کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شہباز شریف نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری