پاکستان کا ہر شہری کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے، اقوام متحدہ قراردادوں پر عمل کرے، فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے یومِ یکجہتی کشمیر ریلی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں ہم نے ہندوستان کو چار دن میں شکست دی اور آج بھی کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر فوری عمل ہونا چاہیے کیونکہ کشمیریوں پر مسلسل ناروا ظلم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے پاس کوئی جواز نہیں، وہ صرف کشمیریوں پر ظلم کے ذریعے اپنی ناکامی چھپا رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کا ہر بچہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ صوبے اور وفاق کے درمیان دو اہم ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور کچھ برف پگھلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ملاقات امن اور خوشحالی کے لیے ہوگی، جبکہ ایپکس کمیٹی کا بھی ایک اہم اجلاس ہوا ہے جس کی تفصیلات انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ جاری کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سزا اور جزا کا نظام مؤثر نہیں۔ اگر نو مئی کے واقعات میں وزیراعلیٰ کا نام ہے تو حکومت کو کارروائی کرنی چاہیے، ثبوت ہیں تو عدالتیں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچی کی جانب سے پوچھا گیا سوال غلط نہیں تھا، بس عمر واضح کر دی جاتی تو بہتر ہوتا۔
گورنر نے بسنت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ بسنت کی دعوت نہیں دی جاتی، لوگ خود میلے میں جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پنجاب میں بسنت منائی جا رہی ہے تو اپنے صوبے میں احتجاج بے معنی ہے، ہمیں بھی بسنت کی طرح مثبت ایونٹس کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ 28ویں ترمیم کوئی گولا نہیں کہ گرتے ہی سب کچھ بدل جائے، جب ڈرافٹ بنے گا تو ترمیم بھی ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد ایک میلہ منعقد کیا جائے گا جس سے اچھا پیغام جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردوں سے بات کی بات کرتی رہی، جبکہ بہتر تھا کہ اپنے ہی لوگوں سے بات کی جاتی، اچھا ہوا وزیراعظم سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ کے معاملے میں وفاق بری الذمہ نہیں، اس کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔
گندم کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ انہیں علم نہیں وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے بات کی یا نہیں، اگر نہیں کی تو وہ خود آج وزیراعظم سے اس معاملے پر بات کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ فیصل کریم کنڈی
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ