جنگ پھیلنے کا مفہوم اور نتائج
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: امریکہ کے پاس ایران کے ارد گرد فوجی اڈوں، سیاسی اتحادیوں، اور اہم توانائی اور تجارتی راستوں کا نیٹ ورک ہے، اور علاقائی جنگ کا مطلب ہے کہ اثاثوں کا یہ مجموعہ بیک وقت خطرے میں ہے۔ عراق، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات وغیرہ میں فوجی اڈوں سے لے کر صیہونی حکومت کی سلامتی، توانائی کی لائنوں اور امریکی ڈیٹرنس کی ساکھ تک۔ ایران اس سے پہلے دو بار سرکاری طور پر ان میں سے کچھ اڈوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ خصوصی رپورٹ:
اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ اسٹریٹجک تنازعہ کا شکار ہیں۔ 1979 میں اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد ایران خطے میں امریکی اتحادیوں کے کیمپ سے نکل گیا اور یہ دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل سیاسی، سیکورٹی اور فوجی کشیدگی کا آغاز تھا۔ ایسے میں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کی سطح غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے اور امریکہ نے ایران کے گرد اپنی فوجی نقل و حرکت تیز کر دی ہے، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے عشرہ فجر کے آغاز کے موقع پر اپنے حالیہ خطاب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اس بار "جنگ علاقائی جنگ" میں تبدیل ہو جائے گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علاقائی جنگ کیا ہے، اس کی خصوصیات کیا ہیں اور اس موقع پر رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایسا انتباہ کیوں جاری کیا ہے؟ علاقائی جنگ یعنی تنازعہ کی نوعیت کا تبدیل ہونا: 1- تنازعہ کے جغرافیہ کو وسعت دینا: علاقائی جنگ کی پہلی خصوصیت، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے، تنازعہ کا دائرہ اور جغرافیہ ہے۔ علاقائی جنگ ایک ایسی جنگ ہے جس میں میدان جنگ دو متحارب ممالک تک محدود نہیں رہتا اور اس کا دائرہ تیزی سے علاقائی سطح تک پھیل جاتا ہے۔ اس مسئلے کی وجہ دونوں فریقین کی صلاحیتوں اور اثاثوں میں تلاش کی جانی چاہیے۔ ایران کے آس پاس کے ممالک میں امریکہ کے متعدد فوجی اڈے ہیں۔ وہ اڈے جو جنگ کی صورت میں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے لیے براہ راست اہداف بن سکتے ہیں۔ امریکہ کے پاس ایران کے ارد گرد فوجی اڈوں، سیاسی اتحادیوں، اور اہم توانائی اور تجارتی راستوں کا نیٹ ورک ہے، اور علاقائی جنگ کا مطلب ہے کہ اثاثوں کا یہ مجموعہ بیک وقت خطرے میں ہے۔ عراق، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات وغیرہ میں فوجی اڈوں سے لے کر صیہونی حکومت کی سلامتی، توانائی کی لائنوں اور امریکی ڈیٹرنس کی ساکھ تک۔ ایران اس سے پہلے دو بار سرکاری طور پر ان میں سے کچھ اڈوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ سب سے پہلے 2019 میں، جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد، عراق میں عین الاسد بیس پر میزائل حملے کے ساتھ، اور پھر چند ماہ قبل، امریکا کی جانب سے 12 روزہ جنگ میں حصہ لینے کے بعد، قطر میں العدید بیس پر حملہ کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا علاقائی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ بھرپور جنگ کی صورت میں وہ ان دونوں ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا اور جو بھی ملک اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو دشمن کے قبضے میں رکھے گا اسے میدان جنگ کا حصہ تصور کیا جائے گا۔دوسری طرف، امریکہ کو ایک غیر یقینی اختتامی نقطہ کے ساتھ جنگ کا خدشہ ہے۔ ایک طویل جنگ جس کا وقت اور دائرہ واشنگٹن کے کنٹرول سے باہر ہے۔ امریکی ملکی رائے عامہ بھاری اور بکھرے ہوئے جانی نقصان کو برداشت نہیں کر سکتی اور اس کے اتحادی ایسی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔
2ـ غیر متناسب جنگ، جغرافیہ بمقابلہ ٹیکنالوجی: ایران اور امریکہ کے درمیان علاقائی جنگ کوئی کلاسک، ہم آہنگ جنگ نہیں ہوگی۔ امریکہ فضائی برتری، بڑے بحری جہازوں اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے اور عام طور پر ایک مختصر اور فوری جنگ چاہتا ہے۔ اس کے برعکس، ایران غیر متناسب جنگی ماڈل پر انحصار کرتا ہے۔ میزائل اور ڈرون کی صلاحیت، جغرافیائی گہرائی، محاذوں کی بازی اور جغرافیائی سیاسی پوزیشن کا استعمال ایسی جنگ میں ایران کی طاقت کے اہم اجزاء ہیں۔ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر ایران کا غلبہ، جسے دنیا کی توانائی کی لائف لائن سمجھا جاتا ہے، ان آلات میں سے ایک اہم ترین ہے۔ اس خطے کے عدم تحفظ کے نتائج دو طرفہ تصادم سے کہیں آگے نکلیں گے اور عالمی معیشت پر براہ راست دباؤ ڈالیں گے۔ اس کے علاوہ، سائبر صلاحیتیں اور توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے میں خلل کا امکان جنگ کو ان علاقوں میں دھکیل دے گا جہاں امریکہ سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہے۔ اس وجہ سے، علاقائی جنگ کو "جغرافیہ بمقابلہ ٹیکنالوجی جنگ" کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ 3ـ ملٹی فرنٹ اور ایک سے زیادہ اداکاروں کا داخلہ: کلاسک جنگوں کے برعکس جن کا عام طور پر ایک اہم محاذ ہوتا ہے، ایک علاقائی جنگ بیک وقت متعدد جغرافیوں میں ہوگی، اور ریاست ہائے متحدہ اب تنازعہ کے مقام کا انتخاب اور اسے محدود کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ ایسے حالات میں جنگ کا دائرہ تیزی سے خطے کے دیگر ممالک تک پھیل جائے گا۔ یہ سب سے بڑھ کر خطے میں امریکہ کے اتحادیوں کے لیے ایک انتباہ ہے۔ وہ ممالک جو امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتے ہیں یا اسے اپنی سرزمین اور فضائی حدود فراہم کر سکتے ہیں۔ ان ممالک کو ایرانی حکام نے کئی بار واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ وہ جائز ہدف بن سکتے ہیں۔ متعدد محاذوں کے علاوہ، علاقائی جنگ کے اداکار بھی متنوع ہوں گے۔ گزشتہ دہائیوں کے دوران، ایران ان گروہوں کا سب سے اہم حامی رہا ہے جنہیں آج "محور مزاحمت" کہا جاتا ہے۔ ایک محور جو عراق اور لبنان سے لے کر فلسطین اور یمن تک پھیلا ہوا ہے۔ اگرچہ اس محاذ کے ایک حصے کو پچھلے دو سالوں میں کچھ دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اسے اب بھی امریکہ اور اس کے سب سے بڑے علاقائی اتحادی صیہونی حکومت کی طرف سے ایک سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو یہ محور اور اس کے کارندے براہ راست تنازع میں داخل ہو جائیں گے۔ لبنان کی حزب اللہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کو اپنا سمجھتا ہے۔ حزب اللہ کی اہمیت اس لیے ہے کہ اسے صیہونی حکومت کے دائرہ کار میں سب سے اہم خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یمن، پاپولر موبلائزیشن فورسز اور دیگر گروپس بھی تنازع میں داخل ہو سکتے ہیں اور جنگ میں اداکاروں کی تعداد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یمن، پاپولر موبلائزیشن فورسز اور دیگر بھی جنگ میں داخل ہو سکتے ہیں جس سے اداکاروں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صیہونی حکومت علاقائی جنگ فوجی اڈوں امریکہ کے کا دائرہ سکتے ہیں کے علاوہ ایران کے ہوتا ہے جاتا ہے کے ساتھ جنگ کو جنگ کی اور اس جنگ کا کیا ہے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔