ہیئت ائمہ مساجد کا ’علماء، انتظار و عملی تیاری‘ سیمینار، امام خامنہ ای کے دفاع و حمایت کا اعلان، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: علماء کرام نے امام خامنہ ای سے تجدید عہد اور انکی حمایت و دفاع کیلئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا اور مولانا اصغر شہیدی نے امام خامنہ ای و انقلاب اسلامی کے حق میں اور امریکا اسرائیل کیخلاف قراردادیں پیش کیں۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید ظفر جعفری
ہیئت ائمہ مساجد و علما امامیہ پاکستان کے زیر اہتمام حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ کے یوم ولادت باسعادت و یوم مستضعفین جہان کی مناسبت سے ’’علماء، انتظار و عملی تیاری‘‘ کے عنوان سے سیمینار و علمی مذاکرے کا انعقاد اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی میں کیا گیا، جس میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای کے دفاع و حمایت کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر صدر ہیئت مولانا محمد حسین رئیسی، نائب صدر مولانا ڈاکٹر سید نسیم حیدر زیدی، مولانا رمیز الحسن موسوی، مولانا ناظر عباس تقوی اور جنرل سیکریٹری مولانا اصغر شہیدی نے خطاب کیا۔ علمی مذاکرے میں مولانا ڈاکٹر مظفر حسین رضوی نے میزبانی کے فرائض انجام دیئے اور مولانا سید صادق رضا تقوی اور ڈاکٹر علی کوثر نے علمی مذاکرے میں سوالات کے جواب دیئے اور کہا کہ انتظار کا حقیقی مفہوم تحریک، بیداری اور ظہور کی جانب اجتماعی جدوجہد ہے، انتظار ایک مکتب اور نظریہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی دراصل ظہور امام مہدیؑ کی جانب ایک عملی قدم ہے، اسلامی انقلاب دراصل ظہور صغریٰ کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام خمینیؒ کی قیادت میں کامیاب ہونے والے اسلامی انقلاب نے شرق و غرب کے سیاسی نظام کو تہہ و بالا کر دیا اور اسلام کی حقانیت کو پیش کیا، آج یورپ اور امریکا میں جو بیداری نظر آ رہی ہے وہ ظہور امام زمانؑ کیلئے معرفت میں تبدیلی اور ارتقاء کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلبیتؑ نے عصر غیبت کیلئے نظام ولایت فقیہ کی جانب متوجہ کیا تاکہ اسلام کا سیاسی نظام ظہور تک قائم و دائم رہ۔ انہوں نے کہا کہ ظہور امامؑ، معرفت سے جڑا ہے، جب تک اعتقادی معرفت کے ساتھ اجتماعی وظائف کی بجا آوری کی معرفت کی سطح بلند نہ ہو، ظہور وقوع پذیر نہیں ہوگا۔
پروگرام کے آخر میں علماء کرام نے امام خامنہ ای سے تجدید عہد اور ان کی حمایت و دفاع کیلئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا اور جنرل سیکریٹری مولانا اصغر شہیدی نے امام خامنہ ای و انقلاب اسلامی کے حق میں اور امریکا اسرائیل کے خلاف قراردادیں پیش کیں۔ پروگرام کی نظامت مولانا علیم رحمانی نے کی، جبکہ اجتماع کی تزئین و آرائش مولانا محمد رضا جعفری نے انجام دی، اراکین کابینہ کے ٹیم ورک نے پروگرام کو کامیاب بنایا۔ پروگرام کا اختتام دعائے سلامتی امام زمانہ عجل اللہ فرجہ سے ہوا اور علماء نے امام خامنہ ای کی حمایت و دفاع کیلئے اپنے دستخط سے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے امام خامنہ ای انہوں نے کہا کہ کا اعلان کیا
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔