سعودی عرب میں جنگلی حیات کے تحفظ کی بڑی پیش رفت، 140 نایاب جانور قدرتی ماحول میں چھوڑ دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
سعودی عرب میں جنگلی حیات کے تحفظ اور قدرتی توازن کی بحالی کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف (این سی ڈبلیو) نے کنگ سلمان بن عبدالعزیز رائل ریزرو میں 140 جنگلی جانور قدرتی ماحول میں چھوڑ دیے ہیں۔
NCW Releases 140 Wild Animals into King Salman Royal Reserve.https://t.co/9UxCG7ReQE#SPAGOV pic.
— SPAENG (@Spa_Eng) February 5, 2026
سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف نے کنگ سلمان بن عبدالعزیز رائل ریزرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے خطرے سے دوچار جنگلی انواع کو دوبارہ قدرتی مسکن میں متعارف کرانے کا عمل مکمل کیا۔ اس مرحلے میں 30 عربی اوریکس، 70 ریم غزالیں (صحرائی غزال) اور 40 حبّارہ بسٹرڈز کو ریزرو میں چھوڑا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:حیاتیاتی تنوع کا فروغ، سعودی عرب میں 35 نایاب جانوروں کی واپسی
این سی ڈبلیو کے مطابق اس اقدام کا مقصد جنگلی جانوروں کی ایسی مستحکم آبادی قائم کرنا ہے جو افزائش نسل کے قابل ہو اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے میں مدد دے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اب تک مختلف پروگراموں کے تحت 10 ہزار سے زائد جانور قدرتی ماحول میں دوبارہ متعارف کرائے جا چکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت سعودی گرین انیشی ایٹو اور وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے، جس کا مقصد مملکت میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحول دوست پالیسیوں کو فروغ دینا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔