ملیریا کے خلاف عالمی جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے، جہاں نئی تحقیق نے مچھروں میں انسیکٹی سائیڈ کے خلاف مزاحمت کی جینیاتی وجہ دریافت کرلی ہے، جو مستقبل میں بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں ملیریا کی ادویات بے اثر، عالمی ادارہ صحت نے وارننگ جاری کردی

یہ تحقیق لیورپول اسکول آف ٹراپیکل میڈیسن اور کیمرون کے سینٹر فار ریسرچ ان انفیکشس ڈیزیزز کے اشتراک سے کی گئی ہے، جس میں مچھر کے ڈی این اے میں ایک اہم انزائم سائٹوکروم P450 سے متعلق حصے کی نشاندہی کی گئی ہے، یہ انزائم مچھروں کو پائریتھروئیڈ نامی انسیکٹی سائیڈز کو توڑنے اور ان کے اثرات سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ دریافت انسیکٹی سائیڈ مزاحمت کے بہتر انتظام میں معاون ثابت ہو گی اور سب صحارا افریقہ میں ملیریا کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے گی، جہاں دنیا کے تقریباً 90 فیصد کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

تحقیق کی قیادت کرنے والے پروفیسر چارلس وونجی کا کہنا ہے کہ اس مطالعے کے تحت ایسے عملی آلات تیار کیے گئے ہیں جو میدان میں استعمال ہو سکتے ہیں اور جن کے ذریعے ملیریا پھیلانے والے اہم مچھروں میں مزاحمت کے پھیلاؤ کو آسانی سے ٹریک کیا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

 ان کے مطابق یہ نتائج انسیکٹی سائیڈ پر مبنی اقدامات، خصوصاً مچھر دانیوں، کی افادیت برقرار رکھنے میں مدد دیں گے جو ملیریا سے بچاؤ کا بنیادی ذریعہ ہیں۔

ماہرین کے مطابق مچھر دانیوں اور گھروں میں انسیکٹی سائیڈ اسپرے کے ذریعے ملیریا پر قابو پانے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی، تاہم گزشتہ ایک دہائی کے دوران مچھروں میں بڑھتی ہوئی مزاحمت کے باعث پیش رفت سست پڑ گئی ہے، جس کی بڑی وجہ ڈیٹاکسیفیکیشن انزائمز کی پیداوار ہے۔

عالمی سطح پر ہر سال ملیریا کے تقریباً 200 ملین کیسز اور 6 لاکھ اموات رپورٹ ہوتی ہیں، جس کے باعث اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنا نہایت ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی تحقیق موجودہ اور مستقبل کی حکمت عملیوں کو مؤثر بنانے اور ملیریا کے بوجھ کو مزید کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ملیریا سے کیسے محفوظ رہا جاسکتا ہے؟ علامات اور علاج کیا ہے؟

یہ تحقیق اپنی نوعیت کی پہلی ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ملیریا پھیلانے والے مچھر جینیاتی سطح پر انسیکٹی سائیڈز کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں اور مزاحمت پیدا کرچکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انضائم ٹیکنالوجی سائنس صحت لیورپول اسکول آف ٹراپیکل میڈیسن مچھر ملیریا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی مچھر ملیریا ملیریا کے کے مطابق گئی ہے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل