گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے اعلان کیا ہے کہ نئے ڈیزائن والے کرنسی نوٹ عید کے موقع پرعوام کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ ملکی مہنگائی قابو میں ہے اور مالیاتی شعبہ مستحکم ہے، انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کی توجہ معاشی ترقی اور نمو کے فروغ پر مرکوز ہے اور اس سلسلے میں پیشرفت مستقل اور پائیدار رہے گی، جو آنے والے دو سالوں تک جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کرنسی نوٹس کے نئے ڈیزائن فائنل، کیا 5 ہزار روپے کا کرنسی نوٹ ختم ہونے جا رہا ہے؟

انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ مالی سال کے دوران 10.

5 ارب ڈالرز میں سے 6 ارب ڈالرز کی ادائیگیاں مکمل کردی گئی ہیں جبکہ باقی 4 سے 4.5 ارب ڈالرز کی بقایا ادائیگیاں مقررہ وقت پر کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت ستمبر 2027 تک ڈپازٹس کے رول اوور کا انتظام شامل ہے۔

جمیل احمد نے نان فوڈ ایکسپورٹس میں 5 سے 6 فیصد اضافہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چاول کی برآمدات میں کمی ہوئی ہے لیکن آئندہ یہ بہتر ہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مالی سال میں ترسیلات زر کی مجموعی رقم 42 ارب ڈالرز سے زائد ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عید پر بینکوں سے نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کیے جاسکتے ہیں؟

گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ نئے کرنسی نوٹ وفاقی کابینہ کی منظوری، پرنٹنگ اور مناسب اسٹاک کی دستیابی کے بعد عوام کے لیے جاری کیے جائیں گے، اس لیے عید پر یہ دستیاب نہیں ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ نئے نوٹ کے سیکیورٹی فیچرز جدید ترین ہیں اور عام شہری آسانی سے فرق پہچان سکتا ہے کہ نوٹ اصلی ہے یا جعلی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسٹیٹ بینک پاکستان جمیل احمد سیکیورٹی فیچرز کرنسی نوٹ نیا ڈیزائن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک پاکستان جمیل احمد سیکیورٹی فیچرز کرنسی نوٹ نیا ڈیزائن

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف