وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد کو اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان کا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم نے بھی وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد کی تقرری کا نوٹفکیشن جاری کردیا ہے۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق ان کی تقرری دو برس کے لیے کی گئی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول کی سربراہی میں قائم 9 رکنی تلاش کمیٹی نے انٹرویوز کے مرحلے کے بعد تین موزوں امیدواروں کے نام ایک سمری کے ذریعے وزیر اعظم پاکستان کو بھجوائے تھے جس میں سابق وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ اور قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد کا نام شامل تھے۔ تقریبا 2 ماہ تک یہ سمری وزیر اعظم ہائوس میں ہی رہی جس کے بعد اسی سمری سے تین روز قبل ڈاکٹر نیاز احمد کے نام کی منظوری دی گئی اور جمعہ کو نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ یہ اسامی 29 جولائی 2025 سے خالی تھی۔ اس طرح 7 ماہ بعد چیئرمین ایچ ای سی کی تقرری ہوسکی۔ ڈاکٹر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد 1962 میں ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ وہ قائد اعظم یونیورسٹی کے علاوہ جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر بھی رہ چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وائس چانسلر ڈاکٹر ڈاکٹر نیاز احمد کے وائس چانسلر یونیورسٹی کے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم