اسلام آباد؛ امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہوگئی ، 80 سے زائد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش دھماکے کے نتیجے 15 افراد جاں بحق اور 80 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ متعدد کی حالت تشویش ناک ہے۔
امام بارگاہ سے ملحقہ گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ خودکش حملہ آور کی لاش ابھی بھی امام بارگاہ میں موجود ہیں۔
پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جبکہ آئی جی اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
وفاقی دارالحکومت کے پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ اسپتالوں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔
https://dailymumtaz.com/wp-content/uploads/2026/02/imambargahblast.mp4
پولیس ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے۔ رینجرز اور پاک فوج کے جوان بھی موقع پر پہنچ گئے۔
زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مین ایمرجنسی، آرتھو پیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ فعال ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق دھماکے میں زخمی 23 افراد کو پمز اور 11 کو پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنرز کو مختلف اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج و معالجے کی نگرانی کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
https://dailymumtaz.com/wp-content/uploads/2026/02/blastvideo.mp4ترجمان ضلع انتظامیہ کے مطابق دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف اسپتالوں میں لائے گئے متعدد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری پمز اسپتال پہنچ گئے۔ وزیر مملکت نے دھماکے میں زخمی ہونے والے زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی۔
طلال چوہدری نے دھماکے کے زخمیوں کے لیے خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زخمی مریضوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امام بارگاہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا جبکہ اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کی۔ وزیرِ اعظم نے شہداء کی بلندی درجات اور انکے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی، انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم ے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور وزیر صحت کو خود نگرانی کرنے کا حکم دیا۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمہ داران کو تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے، ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔
سربراہ مجلس وحدت المسلمین علامہ راجا ناصر عباس نے ترلائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے افسوسناک دھماکے اور بے گناہ نمازیوں کی شہادت پر میں دلی طور پر نہایت غمزدہ اور رنجیدہ ہوں۔
راجا ناصرعباس نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں اس نوعیت کی دہشت گردانہ کارروائی نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ میں سنگین ناکامی کا ثبوت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امام بارگاہ اسلام آباد کے مطابق کی ہدایت
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔