وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعلقات اور تجارتی روابط میں مسلسل اضافہ خوش آئند قرار دیا ہے، جو دونوں ممالک کے لیے باہمی ترقی کے نئے دروازے کھول رہا ہے۔

وزیر اعظم نے پاکستان، ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بزنس فورم کے نتیجے میں دوطرفہ تجارتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے نجی شعبوں کے درمیان 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر عملدرآمد ایک اہم پیشرفت ہے، جبکہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کا حجم بڑھا کر 2 ارب ڈالر تک لے جانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل، صحت، ٹرانسپورٹ اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بھی دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے ہوا ہے۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ 2023 میں پاکستان کی اقتصادی حالت انتہائی خراب تھی، تاہم حکومت نے بروقت اور مشکل فیصلے کر کے معاشی چیلنجز پر کامیابی سے قابو پایا۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح کو 30 فیصد سے کم کر کے سنگل ڈیجٹ تک لایا گیا ہے، جبکہ پالیسی ریٹ میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان میں آئی ٹی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور یہ ملکی معیشت کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور برآمدات کا حجم 3.

8 ارب ڈالر تک پہنچا، جو معیشت کے استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان کو قدرتی وسائل سے مالا مال ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ازبکستان ان وسائل سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ ازبکستان میں چاول اور آلو کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کردار ادا کرے گا۔

ازبک قیادت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ازبکستان کی قیادت میں گزشتہ دس سال کے دوران مجموعی پیداوار دوگنا ہوئی، 85 لاکھ افراد کو غربت سے نکالا گیا اور بے روزگاری میں نمایاں کمی آئی، جو ترقی کی ایک کامیاب مثال ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ازبکستان پاکستان وزیر اعظم شہباز شریف

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ازبکستان پاکستان وزیر اعظم شہباز شریف وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری