اورکزئی اور خیبر میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن، وزیرِ اعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ضلع اورکزئی اور خیبر میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
وزیرِ اعظم نے آپریشن کے دوران 24 خارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، بروقت کارروائی اور جرات مندانہ کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے قوم کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور ریاست پوری قوت کے ساتھ اس ناسور کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’’عزمِ استحکام‘‘ کے ویژن کے تحت دہشت گرد عناصر کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے حکومت اور قوم یک زبان ہو کر سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں امن، ترقی اور استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم نے اس موقع پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کی جرات، قربانی اور حب الوطنی پر فخر کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز کے خلاف
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔