خیبر پختونخوا: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں بھارتی حمایت یافتہ خوارج کے 24 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
پاک فوج کے ترجمان کے مطابق، 4 اور 5 فروری 2026 کو خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں 2 الگ الگ آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ خوارج کے 24 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کا عزم، صوبائی ایپکس کمیٹی کا جامع لائحہ عمل طے
ایک آپریشن اورکزئی ڈسٹرکٹ میں انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا، جس میں 14 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ دوسرا آپریشن خیبر ڈسٹرکٹ میں کیا گیا، جس میں 10 مزید دہشتگرد مؤثر طریقے سے ختم کر دیے گئے۔
مزید پڑھیں: وفاق اور خیبر پختونخوا میں اختلافات کیا ہیں، کیا وہ وزیراعظم اور سہیل آفریدی کی ملاقات سے ختم ہوجائیں گے؟
پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ علاقے میں باقی دہشتگردوں کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں اور ملک میں غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عزم استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی کی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی حمایت یافتہ خیبر پختونخوا دہشتگرد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی حمایت یافتہ خیبر پختونخوا دہشتگرد خیبر پختونخوا حمایت یافتہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔