افغانستان میں موجود امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کیلیے استعمال ہورہا ہے:امریکی نشریاتی ادارہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے کہا ہےکہ افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
عالمی میڈیا میں سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی اسلحہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گرد امریکی ساختہ رائفلز، مشین گنز اور اسنائپر ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی ہتھیاروں کی دستیابی کے باعث دہشت گردوں کے حملوں کی نوعیت اور شدت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
سربراہ سگار جان سوپکو کے مطابق انخلا کے وقت افغانستان میں 3 لاکھ امریکی ہتھیار چھوڑے گئے، جنوبی وزیرستان اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کے دوران امریکا کا افغانستان میں چھوڑا گیا جدید اسلحہ استعمال ہوا۔
خیال رہے کہ حکومت پاکستان افغان حکومت اور بین الاقوامی برادری کو بارہا اس بات کے واضح ثبوت فراہم کر چکی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور ٹی ٹی پی کے دہت گرد امریکا کا افغانستان میں چھوڑا گیا جدید اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل افغانستان میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔