بحری ریسکیو آپریشنز کیلیے برق رفتار جدید ڈرونز استعمال کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
کراچی:
سمندر میں تندو تیز ہوائوں، بلند لہروں سمیت متفرق وجوہات کی بنا پرحادثات کا شکار ہونیوالی ماہی گیرلانچوں اوربحری جہازوں کے سرچ اینڈ ریسکیوآپریشن کی نگرانی بغیر پائلٹ فضائی نظام (ان مینڈ ایریئل وہیکلز)کے ذریعے ہوگی۔
پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے انتہائی برق رفتاراورتیزکیمروں کے حامل ڈرونزکوتلاش و بچائو آپریشنز کیلیے استعمال کرنیکا فیصلہ کرلیا۔
200 ناٹیکل مائل(360کلومیٹر) کی دوری پرحادثات کی کڑی نگرانی اورسمندرمیں درپیش صورتحال کی فوری وڈیوزکی ترسیل کے علاوہ آپریشن ٹیمزکی رہنمائی اور ڈوبنے والے افراد کولائف سیونگ جیکٹ اورفلوٹنگ بیگس بھی پہنچائے جاسکیں گے۔
بغیرپائلٹ ڈرونزکی پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے بحری میں شمولیت رواں سال کے آخرتک ہوجائیگی۔
ڈپٹی ڈی جی ایم ایس اے کموڈورسید نعمان علی بیکراں نے بتایا کہ میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے انتہائی برق رفتار،جدید کیمروں اورجدید سینسرزسیلیس ڈرونزکوسرچ اینڈ ریسکیو آپریشنزمیں استعمال کرنیکا فیصلہ کر لیا۔
بغیرپائلٹ کا فضائی جہازایک ایسا طیارہ یا ڈرون ہوتا ہے جسے اندربیٹھا ہواپائلٹ نہیں اڑاتا بلکہ یہ اڑان ریموٹ کنٹرول یا کمپیوٹرسسٹم کے علاوہ آٹوپائلٹ یعنی خودکارنظام کے تحت چلتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔