بلوچستان میں فورسز کادہشتگردوں کے خلاف آپریشن مکمل ،ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 216ہوگئی: آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ-ون کامیابی سے مکمل کرلیا جس کے نتیجے میں 216 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ-1 کامیابی سے مکمل کر لیا ہے، آپریشن کے تحت بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف مربوط، تیز رفتار اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر متعدد کارروائیاں کی گئیں۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ان دہشت گرد عناصر کا مقصد معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر بلوچستان میں امن و ترقی کو سبوتاژ کرنا تھا، 29 جنوری 2026ء کو مصدقہ اور قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر پنجگور اور ضلع ہرنائی کے مضافاتی علاقوں میں آپریشنز کا آغاز کیا گیا، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی سے مقامی آبادی کو فوری خطرات لاحق تھے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس مرحلے کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طور پر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بھارتی پراکسی نیٹ ورکس سے وابستہ 41 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے جرات مندانہ اور پُرعزم ردعمل نے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا، اس کے تسلسل میں مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، کومبنگ اور کلیئرنس کارروائیاں کی گئیں۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ منصوبہ بندی، قابلِ عمل انٹیلی جنس اور مربوط مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون سے آپریشن ردّالفتنہ-1 کے تحت فیصلہ کن اور مؤثر کارروائیاں کیں۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ کلیئرنس آپریشنز کے نتیجے میں 216 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جس سے دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور عملی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ آپریشن کے دوران غیر ملکی ساختہ اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیگر آلات کا بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا، ابتدائی معلومات سے دہشت گردوں کو منظم بیرونی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کیے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران 36 معصوم شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، شہید ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 بہادر جوانوں نے وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ان کی جرات، پیشہ ورانہ صلاحیت اور غیر متزلزل عزم اعلیٰ عسکری روایات کا مظہر ہے، پوری قوم شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ بیان کے مطابق حکومتِ پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رکھیں گی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ آپریشن ردّالفتنہ-1 اس عزم کا مظہر ہے کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان کے غیور عوام ہمیشہ تشدد پر امن، انتشار پر اتحاد اور بدامنی پر ترقی کو ترجیح دیتے رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ترجمان پاک فوج نے کہا کہ آپریشن رد الفتنہ سیکیورٹی فورسز بلوچستان میں انٹیلی جنس ایس پی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔