روس اور یوکرین 314 قیدیوں کے تبادلے پر رضامند ہوئے ہیں۔ امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ یوکرین جنگ بندی کے لیے اہم کام ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں سہ فریقی مذاکرات جاری رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ابوظبی میں امریکا، روس اور یوکرین سہ فریقی مذاکرات شروع ہوگئے۔ اس حوالے سے امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ امریکا، روس اور یوکرینی نمائندوں کے درمیان بات چیت تعمیری رہی۔ روس اور یوکرین 314 قیدیوں کے تبادلے پر رضامند ہوئے ہیں۔ امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ یوکرین جنگ بندی کے لیے اہم کام ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں سہ فریقی مذاکرات جاری رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: روس اور یوکرین نے کہا کہ

پڑھیں:

یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ اور یورپی کمیشن کی سلامتی پالیسی کی نائب صدر کایہ کالس اسلام آباد کا دورہ کریں گی۔

نجی ٹی وی چینل کےمطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کایہ کالس 31 مئی کو اسلام آباد پہنچیں گی، یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کی پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

یوکرین تنازع، امریکہ اسرائیل ایران جنگ اور عالمی توانائی و اقتصادی بحران کے تناظر میں دورہ اہمیت کا حامل ہے۔

مزید پڑھیں۔بجٹ کے بعد کون سے موبائل فون سستے ہو رہے ہیں؟ اہم خبر

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان