ازبک صدر شوکت مرزیا یوف 2 روزہ سرکاری دورے پر آج پاکستان پہنچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ازبکستان کے صدر شوکت مرزیا یوف اپنے 2 روزہ سرکاری دورے پر آج پاکستان پہنچیں گے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ازبک صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطح وفد بھی پاکستان آئے گا، ازبکستان کے صدر وزیراعظم اور صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جبکہ شہباز شریف اور شوکت مرزیایوف کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔
ترجمان نے بتایا کہ ازبک صدر پاکستان۔ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کریں گے، پاک۔ازبک مذاکرات میں تجارت، توانائی اور دفاعی تعاون پر بات ہوگی جبکہ تعلیم، عوامی روابط اور علاقائی رابطوں کے فروغ پر بھی زور دیا جائے گا۔
40 فیصد اینڈرائیڈ فونز خطرے میں ہیں، گوگل کا اعلان
خیال رہے ازبک صدر شوکت مرزیایوف کا پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہوگا، دورہ پاک۔ازبک تعلقات میں تیزی سے بہتری کی عکاسی کرتا ہے، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔