پنکج ترپاٹھی کی بیٹی کی شوبز میں انٹری، والد کیساتھ پہلی پرفرمانس
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
بالی ووڈ کے نامور اداکار پنکج ترپاٹھی نے 12 سال بعد تھیٹر میں واپسی کرتے ہوئے اپنی بیٹی کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا اور اسے زندگی کا یادگار لمحہ قرار دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پنکج ترپاٹھی 12 سال بعد مختصر کردار کے ساتھ میوزیکل کامیڈی ڈرامہ ’لیلائج‘ کے ذریعے تھیٹر میں واپسی کر رہے ہیں۔
یہ ڈرامہ پنکج ترپاٹھی اور ان کی اہلیہ مریدولا نے پروڈیوس کیا ہے، جس میں ان کی بیٹی آشی بھی شامل ہیں۔
آشی اس ڈرامے کے ذریعے اسٹیج پر اپنی پہلی پیشہ ورانہ اداکاری کا آغاز کر رہی ہیں اور یوں وہ پہلی بار اپنے والد کے ساتھ اسٹیج شیئر کریں گی۔
’لیلائج‘ پنکج ترپاٹھی کو ان کے تھیٹر کے ابتدائی سفر کی طرف واپس لے جاتا ہے اور ان کے لیے ایک طرح سے گھر واپسی کی حیثیت رکھتا ہے۔
تھیٹر میں واپسی کے حوالے سے پنکج ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ تھیٹر وہ جگہ ہے جہاں بطور اداکار میرا اصل سفر شروع ہوا جب کہ 12 سال بعد واپس آنا ایک طرف پرانی یادوں کو تازہ کرتا ہے تو دوسری طرف زمین سے جوڑے رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنیما نے مجھے بے پناہ محبت اور پہچان دی ہے، مگر تھیٹر کی قربت کچھ اور ہی ہوتی ہے، یہ آپ کو عاجز بناتا ہے، آپ کو چیلنج کرتا ہے اور ایک فنکار کے طور پر آپ کو ایماندار رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’لیلائج‘ میرے دل کے بہت قریب ہے کیونکہ یہ خاندان، دوستی اور کہانی سنانے کی مشترکہ محبت سے جنم لینے والا منصوبہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنی اہلیہ مریدولا کے ساتھ اسے پروڈیوس کرنا محبت بھرا تجربہ رہا ہے، اور اس عمل نے ہمیں یہ یاد دلایا کہ ہم نے خواب دیکھنا کیوں شروع کیا تھا۔
بیٹی کے ساتھ اسٹیج پر پرفارم کرنے کے حوالے سے پنکج ترپاٹھی نے کہا کہ آشی کو اسٹیج پر قدم رکھتے دیکھنا میری زندگی کے سب سے جذباتی تجربات میں سے ایک ہے اور میں اس کے لیے اس سے بہتر آغاز کا تصور نہیں کر سکتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنا ایک باپ کا اپنی بیٹی کی رہنمائی کرنا نہیں بلکہ دو اداکاروں کا ایک ساتھ سیکھنا اور اسی لمحے میں آگے بڑھنا ہے۔
واضح رہے کہ ڈرامہ ’لیلائج‘ معروف تھیٹر آرٹسٹ فیض محمد خان نے تحریر اور ہدایت دی ہے، یہ ڈرامہ 8 فروری کو ممبئی کے رنگ شاردہ میں پیش کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ساتھ اسٹیج
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔