پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی ازبکستان کے صدر کو شاندار فضائی سلامی، ویڈیو جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کو شان دار فضائی سلامی دیتے ہوئے پاکستان میں ان کا زبردست استقبال کیا۔
پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے 6 رکنی دستے نے 5 فروری 2026 کو ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی سلامی پیش کی۔
مہمان نوازی اور بھائی چارے کے شان دار مظاہرے میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے معزز مہمان کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی فضائی حصار میں لیا اور فارمیشن لیڈر نے وزیر اعظم اور پاکستان کے عوام کی جانب سے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔
پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی ازبکستان کے صدر کو شاندار فضائی سلامی، ویڈیو جاری
ازبکستان کے صدر کی دی گئی یہ فضائی سلامی دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کے عزم کا اظہار ہے۔
پاک فضائیہ کا پروقار فضائی استقبال جذبہ خیر سگالی کا ایک واضح مظہر تھا جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور مشترکہ بھائی چارے کی عکاسی کرتا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں ازبکستان کے صدر فضائی سلامی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔