پشاور ہائی کورٹ نے کے پی پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کو کالعدم قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
پشاور ہائی کورٹ نے کے پی پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کو کالعدم قرار دے دیا، خیبر پختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کے خلاف درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
عدالتی حکمنامے میں گریڈ 18 اور اس سے اوپر سینئر پولیس افسران کی تقرریاں وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا غیر آئینی قرار دے دی گئی، آئی جی پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا اختیار واپس لینا غیر قانونی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ ایکٹ میں ترامیم پولیس کی عملی خود مختاری کو ختم کرتی ہیں اور اسے سیاسی آلہ بنا دیتی ہیں، آئینی نظام کے تحت انتظامیہ کی نگرانی صرف پالیسی رہنمائی تک محدود ہونی چاہیے، روزمرہ انتظامی امور، تبادلے، تعیناتیاں آئی جی کے پاس ہونی چاہئیں تاکہ کمانڈ مربوط اور نظم و ضبط برقرار رہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ غیر سیاسی اور عملی طور پر خود مختار پولیس آئینی ضرورت ہے، وزیر اعلیٰ کا عمومی اختیار پالیسی معاملات تک محدود ہے، انفرادی افسران کی تعیناتی یا تبادلوں تک نہیں، آئی جی کو بائی پاس کرکے فیلڈ کمانڈرز پر کنٹرول کمانڈ اسٹرکچر کو توڑ دیتا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے حکمنامے میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے کی ذمے داری پولیس سربراہ کی ہے اور وہ صرف قانون کے سامنے جوابدہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔