خود کش بمبار نے افغانستان سے تربیت حاصل کی،حال ہی میں سرحد پار سے آیا تھا،حکومتی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
خود کش بمبار نے افغانستان سے تربیت حاصل کی،حال ہی میں سرحد پار سے آیا تھا،حکومتی ذرائع WhatsAppFacebookTwitter 0 6 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )ترلائی کی مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید ہو چکے ہیں اور متعدد نمازی زخمی ہیں ،خود کش بمبار کی شناخت ہو چکی ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق خود کش بمبار نے افغانستان سے دہشت گردانہ کاروائیوں کی تربیت حاصل کی۔ خودکش بمبار متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے اور کچھ عرصہ پہلے افغانستان سے آیا تھا۔
حافغانستان میں موجود مختلف دہشگرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔ پاکستان میں ہر دہشتگردانہ کاروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے۔ پوری قوم ایسی مذموم اور بزدلانہ کاروائیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ مساجد اور معصوم شہریوں پر اس طرح کے بزدلانہ حملے پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد دھماکہ: برطانوی اور آسٹریلوی ہائی کمشنر کا اظہار مذمت اسلام آباد دھماکہ: برطانوی اور آسٹریلوی ہائی کمشنر کا اظہار مذمت اسلام آباد میں دھماکہ، رومانیہ کے سفیر ڈین اسٹوئنیسکو کی شدید مذمت وزیر اعظم نے ڈاکٹر نیاز احمد کو چیئرمین ایچ ای سی پاکستان مقرر کردیا ،عہدے کا چارج بھی سنبھال لیا آٹھ فروری احتجاج؛ پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات طے سینیٹ اجلاس میں کشمیر، بلوچستان، سیکیورٹی صورتحال اور عمران خان پر بحث صدر اور وزیراعظم کی امام بارگاہ دھماکے کی مذمت، رپورٹ طلبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغانستان سے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔