ترلائی، خودکش حملہ، 31 افراد شہید، 160 سے زائدشدید زخمی، حالت نازک
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پولیس کے مطابق دھماکا کے مضافاتی علاقے ترلائی کی امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران ہوا، دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔پولیس کے دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو اہلکاروں سمیت بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا۔پولیس کا کہنا ہےکہ فتنہ الخوارج کے خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخلے سے روکنے پر خود کو دھماکے سے اڑالیا جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے دھماکے میں اب تک 31 افراد کے شہید ہونے اور 160 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جب کہ دھماکے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔اسپتال حکام کے مطابق دھماکے میں زخمیوں کی مجموعی تعداد 100 سے زیادہ ہے جہاں پمز اسپتال میں 60، پولی کلینک میں 13 ، فیڈرل جنرل اسپتال میں 27 اور بے نظیر اسپتال میں بھی 2 زخمی لائے گئے ہیں۔
پمز اسپتال میں زخمیوں کو رکھنے کی گنجائش ختم ہونے کے باعث زخمیوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ امام بارگاہ میں دھماکا جمعے کی نماز میں دوسری رکعت کے دوران اس وقت ہوا جب نمازی سجدے میں تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی جس کے بعد سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، خود کش حملہ آور نے اسی دوران خود کو مرکزی دروازے پر اڑا لیا۔آئی جی اسلام آباد نےمیڈیا کو بتایا کہ اس دھماکے میں ان کے کزن کا بیٹا بھی شہید ہوا جو نماز پڑھنے کے لیے 3 منزلہ عمارت میں موجود تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں امام بارگاہ کے اندر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پرافسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔
وزیراعظم نے وزیرداخلہ محسن نقوی سے ملاقات کرکے واقعے کی تحقیقات کرکے فوری طور پر ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کی ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا دھماکے کے ذمےداران کو تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے، ملک میں شرپسندی اور بے امنی پھیلانے کی ہرگزکسی کو اجازت نہیں دیں گے۔وزیراعظم نے زخمیوں کوبہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وزیرصحت کو معاملے کی نگرانی کا حکم دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔