عمان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی جب کہ امریکا کی قیادت ٹرمپ کے خصوصی ایلچی وٹکوف کے ہاتھوں میں ہے۔  

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے مسقط میں اپنے ہم منصب سے ملاقات میں امریکا کے ساتھ جاری تعطل کو سنبھالنے اور بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے ابتدائی منصوبہ پیش کیا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کا دعویٰ ہے کہ جمعہ کو ایران کے مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے بالواسطہ مذاکرات کا پہلا دور شروع ہوا تھا۔

جس میں ایرانی وزیر خارجہ نے اپنا ابتدائی منصوبہ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی  کو دیا اور انھوں نے امریکی مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف تک پہنچایا۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی وفد نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس منصوبے کا مکمل جائزہ بھی لیا۔

اس طرح پہلے دور میں ایرانی اور امریکی وفد نے عمانی وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں اور اپنے اپنے موقف اور تحفظات سامنے رکھے۔

 

بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وفد کے ہمراہ عمانی وزیر خارجہ کے ساتھ مشاورت کا دوسرا دور بھی کیا۔

جس کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

تاہم عمانی وزارت خارجہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے ایرانی اور امریکی حکام سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ان ملاقاتوں کا مقصد سفارتی اور تکنیکی مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا تھا۔

عمانی وزیر خارجہ البوسعیدی نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ سلطنت عمان مکالمے کی حمایت جاری رکھے گا اور فریقین کو قریب لانے کے لیے مختلف شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتفاقِ رائے پر مبنی سیاسی حل تلاش کرے گا۔

یاد رہے کہ طویل انتظار اور پس و پیش کے بعد شروع ہونے والے امریکا ایران مذاکرات میں ترکیہ سمیت کئی علاقائی ممالک نے بھی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

قبل ازیں یہ مذاکرات ترکیہ کی پیشکش پر استنبول میں ہونا تھے تاہم ایران کی خواہش پر عمان کے دارالحکومت عمان میں کیے گئے۔

واضح رہے کہ عمان کی روایتی غیر جانبدارانہ سفارت کاری اور خفیہ سفارتی چینلز ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور موجودہ پیش رفت اسی سلسلے کی کڑی سمجھی جا رہی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عباس عراقچی

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟