اسلام آباد کی مسجد میں خودکش حملہ آور کی شناخت، افغانستان میں تربیت کے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد :وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں مسجد و امام بارگاہ خدیجتُہ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے کے حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے، خودکش بمبار نے افغانستان میں دہشت گرد کارروائیوں کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی اور وہ متعدد مرتبہ افغانستان کا سفر بھی کر چکا تھا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں، پاکستان میں ہونے والی ہر بڑی دہشت گرد کارروائی کے پسِ پشت افغانستان اور بھارت کے گٹھ جوڑ کے شواہد موجود ہیں، جن کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا ہے۔
حکومتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پوری قوم ایسی مذموم اور بزدلانہ کارروائیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے اور دہشت گرد عناصر اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، ریاستی ادارے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں اور حملے کے سہولت کاروں، نیٹ ورک اور پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرنے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب پولیس اور سیکیورٹی حکام کے مطابق ترلائی میں پیش آنے والے خودکش دھماکے میں 31 افراد شہید جبکہ متعدد نمازی زخمی ہو گئے، دھماکا نمازِ جمعہ کے دوران مسجد و امام بارگاہ خدیجتُہ الکبریٰ میں اس وقت ہوا جب خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی پر مامور افراد کی جانب سے روکنے پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے قبل فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں، جس کے بعد زور دار دھماکا ہوا اور مسجد کے اندر شدید تباہی پھیل گئی۔ دھماکے کے فوری بعد پولیس، فوج کے دستوں اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کیے۔
ریسکیو حکام کے مطابق تمام زخمیوں کو فوری طور پر پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ہنگامی صورتِ حال نافذ کر دی گئی ہے، کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ عوامی، مذہبی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اس دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ شہداء کے خون کا حساب لیا جائے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔